انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 128 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 128

۱۲۸ پورا کرنے والے تھے جو استثناء باب 18 آیت 18 میں بنی اسرائیل کے بہائیوں میں سے ایک موسیٰ جیسے نبی یعنی صاحب شریعت نبی کے آنے کے متعلق ہے آپؐ بھی ایک جدید شریعت لائے اور بنی اسرائیل کے بہائیوں یعنی بنی اسماعیل میں سے تھے۔قرآن کریم آپ کے اس پیشگوئی کا مصداق ہونے کے متعلق ان الفاظ میں دعویٰ کرتا ہے إِنَّا أَرْسَلْنَا إِلَيْكُمْ رَسُولًا شَاهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَا أَرْسَلْنَا إِلَى فِرْعَوْنَ رَسُولًا (المزمل:16) ہم نے تمہاری طرف ایک رسول بھیجا ہے جو شریعت کے احکام پر تم سے اپنی نگرانی میں عمل کرا کے ان کو قائم کرتا ہے اسی طرح جس طرح ہم نے فرعون کی طرف رسول بھیجا تھا۔اب اگر آنحضرتﷺ موسیٰ کے مثیل تھے تو یہ بھی ماننا پڑے گا کہ مسیح ثانی جس کا وعدہ دیا گیا تھا وہ آپ کی شریعت کو ہی رائج کرنے والا ہو جس طرح مسیح ناصری توریت کے احکام کو دنیا میں قائم کرنے کے لئے آئے تھے اور اس کی جماعت کا اسلام سے وہی تعلق ہو جو ابتدائی صدیوں میں مسیحیت کا یہودیت سے تھا۔اس تفصیل سے آپ لوگوں پر یہ امر تو اچھی طرح واضح ہو گیا ہو گا کہ اسلام اور احمدیت کا کیا تعلق ہے لیکن ابھی تک یہ واضح نہیں ہوا کہ پھر احمدیت کی اہمیت کیا ہے؟ ایک امر کی طرف تو میں پہلے ہی اشارہ کر چکا ہوں کہ ایسے نبیوں کا ایک کام جو شریعت کے بغیر آتے ہیں یہ ہوتاہے کہ وہ مرورِ زمانہ سے جو غلط خیالات اس مذہب میں داخل ہو جاتے ہیں ان کو دور کر کے اصل حقیقت کو آشکار کرتے ہیں۔اور یہ بھی ایک بہت بڑا کام ہے ضرورت کے وقت پرانی گمشدہ شے کو تلاش کر دینا ویسا ہی بڑا کام ہے جیسے کہ نئی چیز کا لانا۔لیکن ہمارے نزدیک حضرت مسیح موعود کا کام اس سے بھی بڑا تھا مگر اس کام کو سمجھنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ پہلے یہ سمجھ لیا جائے کہ ہم لوگ قرآن کریم کے معارف پہلے زمانوں پر ختم نہیں ہو گئے بلکہ قرآن کریم خدا کا مکمل کلام ہے اور مکمل کلام کے لئے یہ شرط ہوتی ہے کہ جس طرح خدا تعالیٰ کا فضل غیر محدود عجائبات کا خزانہ ہے جو وقت اور ضرورت پر ظاہر ہوتے رہتے ہیں اسی طرح خدا کا قول بھی غیر محدود عجائبات کا خزانہ ہو جو ہر روحانی اور اخلاقی ضرورت کے وقت اس کا علاج بتائے۔دنیا جب سے پیدا ہوئی ہے اس کے اندر خدا تعالیٰ نئی نئی چیزیں نہیں پیدا کرتا لیکن اس کی ایک ایک چیز میں اس قدر عجائبات اور اسرار ہیں کہ ایک چیز بھی دنیا کی نہیں جس کی نسبت یہ کہا جا سکے کہ انکشافات ختم ہو گئے ہیں اور