انوارالعلوم (جلد 8) — Page 99
۹۹ رک سکتا ہے مگر پہلی تجویز پر عمل کرنے سے تو فتنہ کابالکل ہی سد باب ہو جاتا ہے۔چوتھا امرجس کا اظہار سمجھوتے کے وقت ہو جانا چاہئے یہ ہے کہ تبلیغ مذہب ہرگز منع نہیں ہوگی اور ہر ایک قوم کا حق ہو گا کہ وہ اپنے مذہب کی اشاعت کرے۔جو قوم اس شرط کو قبول کرلیتی ہے کہ وہ اپنے مذہب کی تبلیغ نہیں کرے گی وہ گویا صریح الفاظ میں اس امر کو تسلیم کر لیتی ہے کہ اس کامذ ہب جھوٹا ہے پس یہ امید کرنی کہ سیاسی سمجھوتے کے ساتھ مذہبی تبلیغ بھی بند کردی جائے یا دوسرے لوگوں کو اپنے مذہب میں شامل کرنے کی کو شش ترک کر دی جائے ایک نہ پوری ہونے والی امید ہے بلکہ ایک مجنونانہ خیال ہے جس کو عقل دھکے دیتی ہے ان می بات ضرور طے ہو جانی چاہئے کہ تبلیغ جائز طریقوں سے ہو اور اس کو باہمی مناقشات کا موجب نہ بنایا جائے۔مثلاً اگر کوئی شخص کسی دوسرے مذہب کو قبول کرے تو اس کے جلوس نہ نکالے جائیں یا اس کی آمد پر اس قوم کے متعلق جس میں سے دو آیا ہے طعن اور تشنیع کا طریق نہ اختیار کیا جائے۔یا اسی طرح دنیاوی دباؤ سے کسی شخص سے مذہب نہ بدلوایا جائے۔یا سیاسی طور پر قوموں کو اپنے اندر جذب کرنے کی کوشش نہ کی جائے۔جیسا کہ ملکانوں کے متعلق ہوا کہ ان کو ہندو مذہب کی خوبیوں کے اظہار کے ذریعہ سے ہندو بنانے کی کوشش نہیں کی گئی بلکہ مال کی لا لچ زمینداروں کے دباؤ اور اس قسم کی جھوٹی روایات کے ذریعہ سے کہ تم اصل میں ہندو ہو مسلمانوں کے دباؤ سے تمہارے باپ دادوں نے ظاہر میں مسلمان کہلانا شرع کر دیا تھا یا یہ کہ مہاتما گاندھی کو سب مسلمانوں نے اپنا پیشوا تسلیم کرلیا ہے اور ان کا فیصلہ ہے کہ سوراج (حکومت خود اختیار ی۔مرتب) تبھی ملے گا جب سب لوگ ایک قوم بن جاو یں وغیرہ وغیرہ مرتد کرنے کی کوشش کی گئی۔اسی طرح بعض ہندو ریاستوں جیسے بھرت پور اور اَلور علی الاعلان حکام نے دباؤ سے مسلمانوں کو ہندو کیا اور اب تک کر رہے ہیں یہ طریق، تبلیغ مذ ہبی نہیں بلکہ سیاسی ہے اور اس سے زیادہ واضح الفاظ میں کوئی قوم دوسری قوم کو لڑائی کا چیلنج نہیں دے سکتی۔پانچویں بات جس کی وضاحت ضروری ہے یہ ہے کہ جو کام ایک قوم کر رہی ہو اس سے وہ دوسری کو روکنے کاحق نہیں رکھتی مثلاً ہندو لوگ مسلمانوں سے چُھوت کرتے ہیں مسلمانوں کو بھی حق ہونا چاہئے کہ وہ ان سے چھوت کریں۔اور اگر مسلمان چھوت کی تحریک اپنے بھائیوں میں کریں تو اس پر ہندوؤں کو ناراض نہیں ہونا چاہئے اور اس صلح کے خلاف نہیں سمجھنا چاہتے کیونکہ اگر ہندوؤں کی چھوت کرنے کے باوجو د ہندو مسلمان کی صلح ہو سکتی ہے تو کیوں مسلمان