انوارالعلوم (جلد 8) — Page 93
۹۳ رکھتے کہ مال اندیشی سے کام لیں بلکہ وہ صرف اس امر کو دیکھتے ہیں کہ ہمارے ٹھیس کھائے ہوئے جذبات کا کوئی بدلہ ضرور ملنا چائے پس کوئی اتحاد قائم نہیں رہ سکتا جب تک کہ ان لوگوں کے جذبات کو مد نظر نہ رکھا جائے۔فتنہ کو مٹایا نہ جائے اور اس غرض کے پورا کرنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ عوام الناس سے ان قربانیوں کا مطالبہ نہ کیا جائے گا جن کے وہ متحمل نہیں ہو سکتے۔اگر ان کی روایات اور عادات اور جذبات کے خلاف مطالبہ کیا جائے گا تو وہ بھی کبھی اس کو برداشت نہیں کر سکیں گے اور لیڈر خواہ کسی قد رہی فراخ دلی کا ثبوت دیں عوام الناس کو وہ اپنے ساتھ شامل نہیں رکھ سکیں گے۔پیچھے جو سمجھوتہ اس غرض کے پورا کرنے کے لئے کیا گیا تھا اس میں یہ شرط کی گئی تھی کہ گائے کی قربانی کو مسلمان بہ ِطيبِ خاطر چھوڑ دیں۔یہ سمجھوتہ عام مسلمانوں کے قومی جذبات اور احساسات بلکہ ان کی تمدنی ضروریات کے لحاظ سے بھی غیرطبعی تھا اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ فسادات اور بھی ترقی کر گئے۔علاوہ ازیں سیاستاً بھی یہ سمجھوتہ درست نہ تھا۔اگر مسلمان لیڈر جو اس سمجھوتے میں شامل ہوئے تھے ہندو قوم کی بناوٹ پر غور کرتے تو ان کو معلوم ہو جاتا کہ گائے کا سوال نہ مذہبی نہیں بلکہ پولیٹیکل ہے خود ویدوں میں ہم لکھا ہوا دیکھتے ہیں کہ ست جگ میں اور رشیوں کے زمانہ میں ہندوستان میں علی الاعلان گائے کے گوشت کے کباب بنائے جاتے تھے اور کھائے جاتے تھے اور آج سے کچھ عرصہ پہلے سوائے پنجاب کے ہندوستان میں گائے کی قربانی علی الاعلان ہوتی تھی پھراب جو اس سوال کو اٹھایا گیا ہے تو کیوں؟ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ پچھلے پچاس سال سے ہندو قوم میں یہ سوال پیدا ہو رہا ہے کہ ہندو مذہب کی تعریف کیا ہے بڑے بڑے مد بروں نے غور کر کے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ ہندومت ایک مذہب نہیں بلکہ مختلف مذاہب کے مجموعے کا نام ہے جو بیرونی حملہ آوروں کے حملوں کے روکنے کے لئے ایک نام کے نیچے جمع ہو گئے تھے اس زمانہ میں جبکہ جتھاداری اور کثرت ِقومی ایک نہایت ضروری امر سمجھا جاتا ہے اس انکشاف کا اثر جو ہندو لیڈروں پر ہوہو سکتا تھا وہ ظاہرہی ہے ان سے یہ امر مخفی نہ تھا کہ اگر یہ امر اہل ہنود کے مختلف فرقوںپر ظاہر ہوتا چلا گیا تو جس طرح سکھ الگ ہو گئے ہیں وہ فرقے بھی الگ ہو جائیں گے اور ان کی موجودہ طاقت ٹوٹ جائے گی اس اندیشہ کو دور کرنے کے لئے انہوں نے یہ تجویز کی کہ مختلف ہندو فرقوں میں جو بڑے بڑے مابه الاشتراك ہیں ان کو معلوم کر کے ان پر خاص طور پر زور دیا جائے اور ان کو مذہب کی جڑ قرار دیا جائے تماس دائرہ میں سب ہندو قومیں جمع رہیں اور ان میں