انوارالعلوم (جلد 8) — Page 76
۷۶ ہی اسلام کو جھوٹا کہنا پڑے گا کیونکہ اگر اسلام سچا ہے تو کہاں ہے وہ خدا جس نے اس کی مدد کا کوئی سامان کیا۔اگر یہ مولوی رسول کریم ﷺکے وارث ہیں تو پھر کیا وجہ ہے کہ آپ کی امت کو نہیں سنبھال سکتے اور کیوں ان کی وجہ سے اسلام کی کوئی جماعت موجود نہیں؟ اسلام کے لئے انہوں نے کیا قربانیاں کیں ہیں؟ ملکانوں کے ارتداد کے متعلق ہی انہوں نے کیا کیا وہاں بھی یہ لوگ ہمارے ہی مبلّغوں کو کوستے رہے۔شاء اللہ نے ادھر منہ تک نہ کیا۔گذشتہ سال یہاں مرتضیٰ حسن نے کہا تھا کہ میں ملکانوں کے علاقہ سے احمدیوں کو جا کر نکال دوں گا مگر وہ سارا سال اس علاقہ میں گھساہی نہیں۔ان لوگوں نے کرنا ہی کیا ہے ان سے ہوہی کیا سکتا ہے جنہوں نے اسلام اور عقائد اور اخلاق کی بوٹی بوٹی کردی ہے اور کوئی چیز ثابت نہیں رہنے دی۔حضرت مرزا صاحب نے کیا کیا ٍان کے مقابلہ میں حضرت مرزا صاحب کو دیکھو کہ انہوں نے کیا گیا۔ایک ایسے گاؤں میں جہاں ریل بھی نہیں آپ پیدا ہوئے ،آپ کے پاس کوئی مال میں تھا، جائیداد نہیں تھی ،بادشاہت میں تھی، حکومت نہیں تھی اسی حالت میں آپ کھڑے ہوئے اور اعلان کیا کہ خدا کے حکم کے ماتحت کھڑا ہوا ہوں میرے پاس دولت نہیں مگر خدا اور اس کے رسول کی محبت کی دولت ہے میرے پاس علم نہیں مگر قرآن ہے اور اس سے بڑھ کر کوئی علم نہیں میرے پاس کوئی گدی نہیں مگر میرے آقامحمدﷺ کی گدی خالی پڑی ہے اس کی خدمت کے لئے کھڑا ہوا ہوں۔بے شک میرے پاس کچھ نہیں مگر خدا چاہتا ہے کہ میرے ہی ذریعہ سب کچھ کرے۔دیکھو اور غور کر و کس برتے پر یہ آواز نکلتی ہے کوئی ظاہری چیز آپ کے پیچھے ہے جس کا آپ کو سہارا ہو۔ایک تن تنہا انسان ہے جو اس لئے کھڑا ہوتا ہے کہ خواہ کچھ ہو اسلام کو سب مذاہب پر بالا کر دوں گا اس کی یہ آواز سن کر مولوی کہلانے والے درندوں کی طرح اس پر آپڑتے ہیں کہ اسے پھاڑ ڈالیں۔انہوں نے خود تو کچھ نہ کیا مگر جو اسلام کی خاطر کھڑا ہوا اس پر پِل پڑے پر مسلمان ہی نہیں عیسائی‘ آریہ ،ہندو سکھ بھی آپ کے خلاف ہو گئے ، حکومت بھی اور رعایا بھی آپ کی مخالفت پر تُل گئی۔یورپ اور امریکہ تک نے آپ کے خلاف زور لگایا غرض آسان کے نیچے اور زمین کے اوپر کی سب طاقتوں نے کہا ہم اسے مٹادیں گی۔ان کے مقابلہ میں آپ نے فرمایا۔بے شک میں کمزور ہوں میرے پاس کوئی طاقت نہیں کوئی جھتہ نہیں، کوئی قوت نہیں ،مگر میرا خدا مجھے کہتا ہے’’ دنیا میں ایک نذیر آیا۔پردنیانے اس کو قبول نہ کیا۔لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر