انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 61 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 61

۶۱ پس اگر سارے بزرگانِ امت محمدیہ کو حیض آتا تھا اور حضرت مرزا صاحب کو آیا تو کیاہوا۔پھر شیخ فرید الدین عطار یہی لفظ تذکرة الاولیاءکے صفحہ ۴۶۱میں استعمال کرتے ہیں چنانچہ لکھتے ہیں۔جیسے عورتوں کو حیض آتا ہے ایسا ہی ارادت کے راستہ میں مریدوں کو حیض آتا ہے اور مرید کے راستے میں جو حیض آتا ہے تو وہ گفتار سے آتا ہے اور کوئی مرید ایسا بھی ہوتا ہے کہ وہ اس حیض میں ہی پڑا رہتا ہے اور کبھی اس سے پاک نہیں ہوتا –‘‘ بات یہ ہے کہ ہر مرید پرایسی حالت آتی ہے جو حیض کی ہوتی ہے۔جبکہ اس پر علوم کا دروازہ کھلتا ہے اس کی زبان پر جو دعوے آتے ہیں وہ حیض ہوتے ہیں پھر جس طرح حیض کے بند ہونے سے بچہ بنتا ہے اسی طرح ان کے دعوے کے بعد جب نتیجہ نکلتا ہے تو وہ بچہ ہوتا ہے پس اگر پہلوں نے اس لفظ کو استعمال کیا ہے تو کیا ہوا اگر حضرت مرزا صاحب نے بھی استعمال کرلیا۔مگر اصل بات یہ ہے تابث تلو ال ان کے دل ان لوگوں سے مل گئے جو نبیوں پر اعتراض کرتے چلےآۓ ہیں۔مولویوں کی عربی دانی مگر یاد رکھنا ہوا ہے کہ حضرت مسیح مو عودؑ پر جو اعتراض کیا جاتا ہے وہ نہ صرف آپ کی تشریح کے خلاف ہے بلکہ ان لوگوں کی عربی دانی کو بھی ظاہر کرتا ہے کیونکہ طمث کے مینے لغت میں حیض ہی کے نہیں بلکہ گندگی اور فساد کے بھی ہیں اور چھوٹی سے چھوٹی لغت سے لے کر بڑی سے بڑی تک میں یہی ہیں۔چنانچہ منجد جو بچے استعمال کرتے ہیں اس میں لکھا ہے۔الطمت۔الدنس - الفساد۔الدم۔الریبة \" یعنی اس کے معنے میل۔فساد- خون۔حیض۔شک و شُبہ کے ہیں۔اس لئے اس الہام کے یہ معنے ہوئے کہ لوگ چاہتے ہیں کہ تیرے اندر کوئی عیب او ربدی دیکھیں یا ایسی بات دیکھیں کہ جو شک اور شُبہ والی ہو۔مگر خدا ان کو ناکام رکھے گا اور تیری صداقت کو پھیلائے گا۔اب بتاؤ ان معنوں کی رو سے کونسا اعتراض اس کشف پر پڑ سکتا ہے خود حضرت صاحب نے اس کے معنے ناپاکی اور گندگی کئے ہیں۔کیا یہ لوگ آپ کی ناپاکی اور گندگی کی تلاشی نہیں کرتے۔اسی الہام کی یہ صداقت ظاہر ہو رہی ہے جو کچھ ان لوگوں نے بیان کیا ہے۔