انوارالعلوم (جلد 8) — Page ix
لئے کچھ نہیں مانگتا۔ آخر پر تحریر فرمایا۔ اے عزیزو! فتح کا زمانہ آگیا۔ کامیابی دروازے پر ہے۔ خوشی کی گھڑیاں ناچتی ہوئی چلی آتی ہیں۔ اور تمہارے قدموں کے چومنے کی مشتاق ہیں۔ وہ دن قریب ہیں جب فوج در فوج لوگ اسلام اور احمدیت کو قبول کریں گے پس اس زمانہ کی نسبت سے اپنی قربانیوں کو بھی بڑھا دو۔" حضور کی یہ پیشگوئی پوری ہوتی ہوئی آج ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ فَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَالِكَ (۲) بہائی فتنہ انگیزوں کا راز کیونکر فاش ہوا قادیان میں بعض بھائی اپنے آپ کو احمدی ظاہر کرتے ہوئے خفیہ طریق سے فتنہ انگیزی کرتے رہے۔ مخفی طور پر اپنی تعلیمات کو پھیلاتے رہے اور ایسے جماعتی عہدوں پر اور اداروں میں کام کرتے رہے جن کا مقصد احمدیت کی خدمت اور اشاعت ہے۔ سید نا حضرت مصلح موعود نے ان کے متعلق اطلاع ملنے پر تحقیقاتی کمیشن مقرر فرمایا اور اس کی مفصل رپورٹ آنے کے بعد ۱۸ مارچ ۱۹۲۴ء اور ۲۰ مارچ ۱۹۲۴ء کو مسجد اقصیٰ میں دو مفصل خطاب ارشاد فرمائے۔ جس میں آپ نے کمیشن کی رپورٹ اور معین گواہیاں پڑھ کر سنائیں اور فرمایا کہ ہم مذہبی آزادی کے قائل ہیں اور کئی مذاہب کے لوگ قادیان میں ہماری دعوت پر لیکچر دیتے رہتے ہیں مگر ان لوگوں نے ہمارے کہلا کر ہماری جماعت کا پردہ اوڑھ کر اسلام کا دعوی کرتے ہوئے اسلام کے خلاف ناپاک کار روائیاں کی ہیں اور یہ امر ہر مذہب سے ہی نہیں بلکہ انسانی شرافت اور اخلاق سے بھی بعید ہے اس لئے میں ان کے اخراج از جماعت کا اعلان کرتا ہوں۔ آپ نے بہائیوں کے شریعت اسلامی کے منسوخ ہونے کا دعوی بیان کرتے ہوئے اپنی غیرت کا یوں اظہار فرمایا۔ وہ غیر احمدی جنہوں نے ہمارے بزرگوں کو قتل کیا ہم ان کو ان سے ہزار درجہ اچھا سمجھتے ہیں کیونکہ وہ محمد سلیم کا نام عزت سے لیتے ہیں۔ مگر جو شخص محمد