انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page viii of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page viii

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ تعارف کتب یہ انوار العلوم کی آٹھویں جلد ہے جو سیدنا حضرت فضل عمر خلیفة المسیح الثانی کی فروری ۱۹۲۴ء سے ۲۷ نومبر ۱۹۲۴ء تک کی تحریرات و تقاریر پر مشتمل ہے۔ (1) تائید دین کا وقت ہے ہندوؤں کی تحریک شدھی کے مقابل پر جماعت احمدیہ کی طرف سے زبردست تبلیغی کوششیں جاری تھیں اور ملکانا قوم اور دیگر ہندو اقوام میں بھی زور سے تبلیغی کار روائیاں عمل میں آرہی تھیں جس کی خاطر غیر معمولی مالی قربانی کی ضرورت تھی۔ چنانچہ ۱۵ فروری ۱۹۲۴ء کو حضرت مصلح موعود نے جماعت کے سامنے مالی قربانی کی یہ تحریک رکھی۔ جس میں آپ نے فرمایا کہ ہندو اقوام میں تبلیغ کی خاطر پہلے کم از کم سو روپیہ چندہ دینے کی شرط تھی مگر بہت سے احباب یہ رقم ادا نہ کر سکنے کی وجہ سے سخت دکھ محسوس کر رہے تھے اس لئے اب میں اس تحریک کو عام کرتا ہوں۔ نیز فرمایا که مرکزی تعمیرات جر من مشن بخارا مشن اور افریقہ میں تعلیمی اور تربیتی مقاصد کی خاطر چالیس ہزار روپیہ خاص چندہ کی ضرورت ہے۔ اس لئے آپ نے تحریک فرمائی کہ تمام احمدی ماہوار چندوں کے علاوہ اپنی ماہوار آمد کا ایک تہائی اس سال ان ضروریات کے پورا کرنے کیلئے یکمشت ادا کریں۔ زمینداروں کو آ راروں کو آپ نے ۲۵ روپے فی مربع ادائیگی کا ارشاد فرمایا۔ آپ نے فرمایا کہ یہ چندے تمہاری ہی بہتری اور فلاح کے لئے ہیں۔ میں اپنی ذات کے