انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 38 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 38

انوار العلوم جلد به ۳۸ بھائی فتنہ انگیزوں کا راز کیونکر فاش ہوا؟ پھر دیکھو نو مبر میں ایک خطبہ پڑھا تھا جو ۳۰۔ نومبر طاعون پھیلنے کی قبل از وقت اطلاع کے الفضل میں چھپ چکا ہے۔ اس میں کہا تھا۔ میں نے جو آج یہ خطبہ پڑھا ہے یہ ایک رویا کی بناء پر پڑھا ہے جو میں نے پرسوں دیکھی۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا پر کوئی اور اور عذاب آنے والا ہے اور قریب کے زمانے میں آنے والا ہے ۔ میں نے دو نظارے دیکھتے ہیں۔ اول میں نے ایک مریض کو دیکھا جس کے متعلق مجھے بتایا گیا کہ طاعون کا مریض ہے۔ پھر ایسا معلوم ہوا کہ ہم کچھ آدمی ایک گلی میں سے گزر رہے ہیں ۔ ہمیں ایک شخص کہتا ہے پرے؟ ے ہٹ جاؤ یہاں سے بھینسیں گزرنے والی ہیں۔ ایسا معا - ایسا معلوم ہوا کہ گویا گلی کے پاس ایک کھلا میدان ہے جس کے ارد گرد احاطہ کے طور پر دیوار ہے اور ایک طرف دروازہ بھی ہے جس کو کواڑ نہیں ہیں اور میں اور میرے ساتھی اس دروازہ میں داخل ہو گئے۔ ہم نے گلی میں سے گزرنے والی بھینسوں کو دیکھا کہ وہ مارنے والی بھینسوں کی طرح گردن اٹھا کر دوڑتی چلی آتی ہیں۔ میں نے انتظار کیا کہ وہ گزر جائیں لیکن اتنے میں ہمیں بتایا گیا کہ وہ اس گلی سے نہیں دوسری سے گزر گئیں۔ تعبیر الرویا میں بھینس کی تعبیر و با یا بیماری ہوتی ہے اور طاعون سے مراد بھی عام بیماری یا کوئی دیا ہوتی ہے اور طاعون بھی ہو سکتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عنقریب اس رنگ میں کوئی اور نشان ظاہر ہو گا ۔ کے دیکھو اب کس طرح طاعون پھیل رہی ہے ۔ یہ نشان خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود کے غلام کے ذریعہ حال میں دکھاتے ہیں۔ آج میں کہتا ہوں کہ دنیا کا کوئی مذہب دعا سے مقابلہ کرلے ۔ دعا سے مقابلہ کرنے کا چیلنج میرے مقابلہ میں دعا کر کے دیکھ لے کہ خدا میری مدد کرتا ہے۔ دعا کہ مدد یا اس کی اور میں یہ اپنے متعلق ہی نہیں کہتا میرے مرنے کے بعد بھی لمبے عرصہ تک جماعت احمد یہ میں ایسے انسان ہوں گے کہ جو نشان دکھائیں گے ۔ حضرت مسیح موعود نے قرآن کریم کی تعلیم کے کامل ہونے کا اپنی کتابوں میں اس قدر ذکر کیا ہے کہ میں حیران ہوں کہ حضرت صاحب کو راستباز جان کر کس طرح کوئی کہہ سکتا ہے کہ قرآن کی تعلیم منسوخ ہو گئی یا تو ایسے شخص کو عقل سے کو را کہنا پڑے گایا ( حضرت مسیح مو موعود اور بہاء اللہ) دونوں میں سے ! ایک جھوٹا ہے۔