انوارالعلوم (جلد 8) — Page 33
۳۳ بہائی مذہب کا گند میرے نزدیک اس مذہب کے سچے یا جھوٹے ہونے کے لئے یہی دیکھنا کافی ہے کہ اسے قبول کرکے انسان اس قدر گند ا ہو جاتا ہے کہ اسے یہ بھی تمیز نہیں رہتی کہ اس کے انسانی اخلاق کس قدر گر گئے ہیں۔اور یہ مذہب ایسا ہی ہے جیسا کہ میں اپنے لیکچروں میں بتاؤں گا۔ان کا خلیفہ ”ووکنگ میں خواجہ کمال الدین صاحب کے پیچھے نماز پڑھ آیا۔امریکہ میں یہ لوگ کہتے ہیں عیسیٰ سب سے بڑے انسان گزرے ہیں۔مسلمان ملکوں میں یہ کہتے ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم سب سے بڑے انسان تھے۔غرض ان پر یہ الزام ہے کہ انہوں نے اخلاق سے گری ہوئی باتیں کہیں۔انسان جو معاہدہ کرتا ہے اسے توڑ بھی سکتے مگر دیکھو اسلام نے کیسی اعلیٰ تعلیم دی ہے جو یہ ہے کہ جب معاہده توڑو تو پہلے اس کے متعلق اطلاع دو۔جب ایک شخص اقرار بیعت کرتا ہے تو اس کا فرض ہے کہ اگر توڑا ہے تو توڑنے کی اطلاع دے مگر انہوں نے نہ دی۔اور ان کے بیانات سے یہ پتہ لگتا ہے کہ جو عہد انہوں نے کیا تھا اس کو انہوں نے توڑا اور مہینوں توڑتے چلے گئے۔غرض ہم میں مل کر، ہم میں رہ کر اور ہم میں اپنے آپ کو شامل کر کے وہ باتیں انہوں نے کیں جو کسی طرح انہیں شامل نہیں رکھ سکیں۔حضرت مسیح موعودؑ کو ماننے کا اِدعّا وہ کہتے ہیں کہ ہم حضرت مسیح موعودؑ کو بھی سچا سمجھتے ہیں۔مگر حضرت صاحب تو لکھتے ہیں کہ جو قرآن کے ایک شُعثہ کو بھی مٹائے وہ کافر ہے اور اگر میں مٹاؤں تو میں بھی کافر ہوں۔مگر یہ ایک طرف ان کو سچاکہتے ہیں اور ایک طرف اس کی صداقت کا اظہار کرتے ہیں جو شریعت کو ،نماز کو،روزوں کو ، حتی کہ قرآن کو منسوخ قرار دیتا ہے اور نئی شریعت لانے کا مد عی ہے۔اس کا صاف ہے کہ احمدیوں کو دھوکا دینے کے لئے یہ کہا جاتا ہے کہ ہم حضرت صاحب کو سچا سمجھتے ہیں۔پھر حضرت مرزا صاحب اس کے بعد آئے اور جو نئی شریعت کامد عی ہے وہ آپ سے پہلے گزر چکا ہے۔مگر مجیب بات ہے کہ خدا اپنے راستباز اور ملہم یعنی حضرت صاحب کو نہیں بتاتا کہ نئی شریعت آگئی ہے اور اسلامی شریت منسوخ ہو چکی ہے۔اور اگر بتاتا ہے تو وہ منافقت سے چھپائے رکھتا ہے اور لوگوں کو بتاتا نہیں۔اسلام اور حضرت مسیح موعود حضرت صاحب اپنی کتاب کشتی نوح میں فرماتے ہیں کہ :