انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 32 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 32

۳۲ اور جب کبھی اسے درس میں لایا گیا تو بھی مجھ سے نہ ملا۔پھر جب لوگوں نے اسے کہا کہ تم دوسروں سے گفتگو کرتے ہو خليفۃ المسیح سے کیوں نہیں کرتے تو اس نے مجھے چٹھی لکھی کہ میں ملاقات کرنا چاہتا ہوں۔میں نے کہا کرو مگر مسجد میں ملاقات ہو گی۔اس کا اس نے انکار کر دیا۔وہ الگ ملنا چاہتا تھا تاکہ لوگوں پر اس کے خلاف اثر نہ ہو اور جو چاہے کہتا پھرے۔تو ایک ایسا شخص جو ہمارے مخالف مذہب کا تھا ہمارے گھر بیٹھ کر لوگوں کو ورغلاتا رہا۔ہم اس کو کھانا دیتے رہے، اس کی عزت کی، اسے مہمان رکھا۔کئی لوگوں نے کہا بھی کہ یہ لوگوں کو ورغلاتا ہے اسے نکال دیں لیکن میں نے کہا کہ اگر لوگ ایسے کچے ہیں کہ ایک بابی ان کو ورغلا سکتا ہے تو انہیں کون روک سکتا ہے۔تم اپنا کام کرو وہ اپنا کام کرتا ہے۔تو ہم اس سے نہیں ڈرتے کہ کوئی ہمارے خلاف بات کرے بلکہ ہم تو بُلا بُلا کر اپنی مسجد اور مدرسہ میں آریوں اور سکھوں کے لیکچر کرواتے رہے ہیں۔ناراضگی کی وجہ اگر ان کے دلوں میں تغیر ہوا تھا تو یہ ہمارے لئے کو ئی نا را ضگی کی وجہ نہیں۔مگر ایک وجہ ہے اور وہ یہ ہے کہ انہوں نے کسی مذہب کی اصول کی پابندی نہیں کی۔یہ ایسے کام پر مامور تھے جو ہمارے مذہب کی اشاعت کیلئے مخصوص ہیں۔بڑے اخبار الفضل اور فاروق۔مگر اس کو جانتے ہوئے ان کاموں میں انہوں نے ملازمتیں کیں اور اپنی کارروائیوں کو خفیہ جاری رکھا اور اپنی حالت کو ظاہر نہیں کیا۔دنیا میں گندے سے گندے مذہب موجود ہیں مگر یہ ایسی بد اخلاقی انہوں نے دکھلائی کہ جس مذہب کے لئے انہوں نے ایسا کیا ہے وہ گندگی سے بھی گرا ہوا ہے۔عیسائی حضرت مسیح کو خدا مانتے ہیں۔ہندو بت پرستی کرتے ہیں اور سکھ شریعت سے جدائی رکھتے ہیں، یہودی رسول کریم ؐکو گالیاں دیتے ہیں' زرتشت آتش پرستی کرتے ہیں مگر باوجود اس کے وہ انسانی ودائرے سے نہیں گر جاتے کیونکہ اس طرح وہ اخلاقی جرائم کے مرتکب نہیں ہوتے۔مگر ان لوگوں نے مذہب کی تبدیلی ہی نہیں کی بلکہ انہوں نے اخلاق سے گرا ہوا کام کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ باوجود یکہ بہائی خیال رکھتے تھے ان اخبارات میں کام کرتے رہے جن کی غرض یہ ہے کہ احمدی عقائد کو پھیلائیں جو بہائیوں کے قطعا ًخلاف ہیں اور یہ جانتے ہوئے کہ ہم غیر احمدیوں کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے انہوں نے اپنے عقائد کو چھپایا اور احمدیوں کو نمازیں پڑ ھائیں حالا نکہ لاکھ درجہ بہائیوں سے غیراحمدی اچھے ہیں۔