انوارالعلوم (جلد 8) — Page 628
۶۲۸ موعود کو جو رؤیا دکھائی گئی وہ بھی عجیب ہے اس میں آپ کو سرو کی شاخ دکھائی گئی اور کہا گیا کہ اسے اس بیری کے پاس لگا دو جو اس سے پہلے کاٹی گئی تھی۔اس سے بھی ظاہر ہے کہ سرو کی شاخ اور تھی اور اس سے پہلے ایک بیری کاٹی گئی تھی۔سرو کی شاخ اور بیری کا درخت بھی اپنے اندر عجیب حکمت رکھتے ہیں، بیری جو پہلے کاٹی گئی تھی۔اس سے مراد سید عبد اللطیف صاحب تھے۔انہیں بیری قرار دے کر اس طرف اشارہ کیا گیا کہ وہ پھل دار یعنی صاحب اولاد تھے اور سرو کی شاخ سے یہ مراد تھی کہ بیری کے بعد جو شاخ کاٹی جائے گی وہ پھل دار نہیں ہوگی، چنانچہ مولوی نعمت اللہ خاں صاحب کی ابھی تک شادی بھی نہ ہوئی تھی کہ شہید کر دیئے گئے۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ سرو کی شاخ جو کاٹی گئی ،اس سے مراد وہی تھے۔پھر الہام کے یہ الفاظ کہ’’ کابل سے کاٹا گیا اور سیدھا ہماری طرف آیا ‘‘ یہ بھی عجیب ہیں۔بائبل میں آتا ہے کہ جب حضرت لوط کی قوم کے متعلق حضرت ابراہیم علیہ السلام کو معلوم ہوا کہ تباہ ہونے والی ہے تو انہوں نے خدا تعالی کے حضور عرض کی۔’’کیا تُو نیک کو بد کے ساتھ ہلاک کرے گا۔شاید پچاس صادق اس شہر میں ہوں۔کیا تُو اسے ہلاک کرے گا۔اور ان پچاس صادقوں کی خاطر جو اس کے درمیان ہیںِ، اس مقام کو نہ چھوڑے گا۔ایسا کرنا تجھ سے بعید ہے کہ نیک کو بد کے ساتھ مار ڈالے اور نیک بد کے برابر ہو جائیں۔یہ تجھ سے بعید ہے کہ تمام دنیا کا انصاف کرنے والا انصاف نہ کرے گا۔اور خداوند نے کہا۔کہ اگر میں سدوم میں شہر کے درمیان پچاس صادق پاؤں تو میں ان کے واسطے تمام مکان کو چھوڑوں گاتب ابرہام نے جواب دیا اور کہا۔کہ اب دیکھ میں خداوند سے بولنے میں جرأت کی۔اگرچہ میں خاک اور راکھ ہوں۔شاید پچاس صادقوں سے پانچ کم ہوں کیا ان پارٹی کے واسطے تُو تمام شہر کو نیست کرے گا اور اس نے کہا اگر میں وہاں پینتالیس پاؤں تو نیست نہ کروں گا۔پھر اس نے اس سے کہا کہ شاید وہاں چالیس پائے جائیں۔تب اس نے کہا کہ میں ان پالیسی کے واسطے بھی نہ کروں گا۔پھر اس نے کہا میں منت کرتا ہوں کہ اگر خداوند خفانہ ہوں۔میں پھر کہوں شاید وہاں تیس پائے جائیں۔وہ بولا کہ اگر میں وہاں تیس پاؤں تو میں یہ نہ کروں گا۔پھر اس نے کہا۔دیکھ میں نے خداوند سے بات کرنے میں جرأت کی۔شاید وہاں بیس پائے جائیں۔وہ بولا میں بیس کے واسطے بھی اسے نیست نہ کروں گا۔تب اس نے کہامیں منت