انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 622 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 622

۶۲۲ جب کام کا زور ہو تو میں چاہتا ہوں کہ انسان مشین کی طرح کام کرے۔نہ اپنے آرام کا اسے خیال آئے نہ وقت بے وقت دیکھے۔جب اس طرح کام لیا جائے تو بعض اوقات اچھے سے اچھے کام کرنے والے کے ہاتھ پاؤں بھی پھول جاتے ہیں۔مگر انہوں نے اخلاص سے کام کیا اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ حق رکھتے ہیں کہ ان کے لئے خصوصیت سے دعائیں کی جائیں۔پھر میں سمجھتا ہوں ماسٹر عبدالرحیم صاحب نیز خصوصیت سے جماعت کی دعاؤں کے اور شکریہ کے مستحق ہیں۔واقفیت کی وجہ سے انہوں نے اس سفر میں بہت کام کیا ہے۔ان کے اندر بعض کمزوریاں ہیں۔لیکن میرا تجربہ ہے کہ وہ اکیلے چار پانچ آدمیوں کا کام کرتے ہیں بشرطیکہ گھبرا نہ جائیں اور جب گھبرا جائیں تو پھر ایک آدمی کا کام بھی نہیں کر سکتے۔ان کی وجہ سے بھی سلسلے کے کاموں میں بہت کچھ مدد ملی ہے۔اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ برادرانہ حسن سلوک کے خلاف ہو گا اگر میں اس پہلے موقع پر جو مجھے اظہار خیالات کا اس سفر کے بعد ملاہے ،ان کی خدمات کا اظہار نہ کروں۔ان کی غلطیاں میں بیان کرتا رہا ہوں اور اب بھی میں سمجھتا ہوں کہ ان میں بعض کمزوریاں ہیں۔مگر اس سے کوئی یہ خیال نہ کرے کہ مجھے ان کی خدمات کا اعتراف نہیں ہے۔ان کی غلطیاں تربیت کا نقص ہے مگر اخلاص میں کوئی کمی نہیں۔اور اخلاص کے لحاظ سے تو جماعت کا کوئی فرد چُن لیا جائے۔وہ ایسا اعلیٰ نمونہ پیش کرے گا جو قابل رشک ہو گا۔مگر ابھی تربیت کی کمی ہے۔گویا ہمارے پاس ہیرے موجود ہیں مگر انہیں تراشنے کی ضرورت ہے۔اخلاص تو ہماری جماعت کے ہر فرد میں حضرت مسیح موعود کی قوت قدسیہ کی وجہ سے ایسا ہے کہ جو پہاڑ کی طرح ہے۔اور کوئی چیز اسے جُنبش نہیں دے سکتی۔مگر تربیت کی نہایت ہی ضرورت ہے تاکہ آئندہ نسلیں اس نقص سے محفوظ ہو جائیں۔اور یہ کام وقت چاہتا ہے۔مجھے اگر خداتعالی نے موقع دیا تومیں و رنہ جب خدا چاہے گا یہ کام ہو جائے گا۔اور اُس وقت ایک ایک آدمی بیس بیس آدمیوں کا کام کر سکے گا۔اس وقت میں نے اہم باتیں نہیں چھیڑیں کیونکہ یہ خوشی کا جلسہ ہے۔اور سنجیدہ باتیں دوسرے موقع پر بیان کی جائیں گی اس وقت تو اوپر اوپر کی باتیں بیان کی ہیں۔اب میں دعا کرتا ہوں کہ جو کوتاہیاں اس سفر میں ہم سے ہوئی ہیں ،خدا انہیں معاف کرے اور جو کوتاہیاں تم سے پیچھے ہوئی ہیں انہیں بھی معاف کرے۔دین و دنیا میں کامیاب فرمائے۔اخلاق اور عادات میں تربیت حاصل کرنے کی توفیق بخشے۔ہمیں مکمل انسان بنائے۔اور ایسے مکمل جیسا کہ اس کی منشاء ہے کہ انسان ہوں اور جیسا کہ قرآن کریم کی تعلیم چاہتی ہے۔اور اس