انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 615 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 615

۶۱۵ نے یہ بھی کامیابی کا ذریعہ قرار دیا ہے۔اس سفرمیں خدا نے لندن میں مسجد بنانے کی بھی توفیق دی۔اور یہ عجیب بات ہے کہ انگلستان میں پہلے ایک مسجد ہے مگر وہ ایک عیسائی نے بنائی ہے جو و و کنگ کی مسجد ہے اور غیر مبائعین کے ہاتھ میں ہے جو اسس على التقوی ۷۷؎ نہیں ہے پس پہلی مسجد انگلستان میں ہماری ہی ہے جس کی بنیاد مسلمان نے رکھی ہے۔اس پر یہ کتبہ لگایا گیا ہے۔أعوذ بالله من الشيطن الرجیم بسم الله الرحمن الرحيم نحمدہ و نصلی على رسولہ الكريم خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ – ھو الناصر قل ان صلاتي ونسكي ومحياي ومماتي للہ رب العلمين۔۷۸؎ میں میرزا بشیر الدین محموراحمد خلیفۃ المسیح الثانی امام جماعت احمد یہ جس کا مرکز قادیان پنجاب ہندوستان ہے خدا کی رضاء کے حصول کے لئے اور اس غرض سے کہ خداتعالی کا ذکر انگلستان میں بلند ہو اور انگلستان کے لوگ بھی اس برکت سے حصہ پاویں جو ہمیں ملی ہے آج۲۰۔ربیع الاول ۱۳۴۳ھ کو اس مسجد کی بنیاد رکھتا ہوں۔اور خدا سے دعا کرتا ہوں کہ وہ تمام جماعت احمدیہ کے مردوں اور عورتوں کی اس مخلصانہ کوشش کو قبول فرمائے اور اس مسجد کی آبادی کے سامان پیدا کرے اور ہمیشہ کے لئے اس مسجد کو نیکی، تقویٰ، انصاف اور محبت کے خیالات پھیلانے کا مرکز بنائے۔اور یہ جگہ حضرت محمد مصطفٰی خاتم النبين ﷺ اور حضرت احمد مسیح موعود نبی الله پرو زونائب محمد عليهما الصلوة والسلام کی نورانی کرنوں کو اس ملک اور دوسرے ملکوں میں پھیلانے کے لئے روحانی سورج کا کام دے اے خد اتُو ایسا ہی کر۔19۔اکتوبر ۱۹۲۴ء" اور ہم نے ساری جماعت کی خوشی کے لئے ایک طرف میری اصلی تحریر کا فوٹو اور دوسری طرف انگریزی ترجمہ گھروں میں رکھنے کے لئے تیار کرایا ہے ، جو احباب چاہیں دفتر میں چھپے پڑے ہیں (قیمت ۱۲ آنہ ہے) خدا کی قدرت ہے۔میری ایک نظم تھی جس میں مسجد بنانے کا ذکر "ہم ہم" کے ساتھ تھا۔یعنی اس کا بنانا میری طرف منسوب تھا۔آخر خدا تعالی نے توفیق دی اور اس مسجد کی بنیاد رکھ دی گئی۔اسی سفر میں سلسلہ کی عظمت کا جو اثر ہوا اس کو الفاظ ادا نہیں کر سکتے جس کسی علاقہ سے ہم