انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 614 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 614

۶۱۴ لکھتے جاتے۔اگر کوئی لفظ۔رہ جاتا تو کہتے ا أشتاد ذرا ٹھہریئے یہ لفظ رہ گیا ہے۔گویا انجیل کا وہ نظارہ تھا جہاں اسے استاد کر کے حضرت مسیح ؑکو مخاطب کرنے کا ذکر ہے۔اگر کسی مولوی نے خلاف بولنا چاہا تو وہی لوگ اسے ڈانٹ دیتے۔ایک مولوی آیا جو بڑا بااثر سمجھا جاتا تھا۔اس نے ذرا ناواجب باتیں کیں تو تعلیم یافتہ لوگوں نے ڈانٹ دیا اور کہہ دیا کہ ایسی بیہودہ باتیں نہ کرو ہم تمہاری باتیں سننے کے لئے نہیں آئے۔اس پر وہ چلا گیا اور رؤوسا معذرت کرنے لگے کہ وہ بیوقوف تھا اس کی کسی بات پر ناراض نہ ہوں۔یہ ایک غیر معمولی بات تھی۔پھر منارۃُ البيضاء کا بھی عجیب معاملہ ہوا۔ایک مولوی عبد القادر صاحب سید ولی اللہ شاہ صاحب کے دوست تھے ان سے میں نے پوچھا کہ وہ منا رہ کہاں ہے جس پر تمهارے نزدیک حضرت عیسیٰؑ نے اترنا ہے ، کہنے گئے۔مسجد امویہ کا ہے۔لیکن ایک اور مولوی صاحب نے کہا کہ عیسائیوں کے محلّہ میں ہے۔ایک اور نے کہا حضرت عیسیٰ آکر خود بتائیں گے۔اب ہمیں حیرت تھی کہ وہ کونسا منارہ ہے دیکھ تو چلیں۔صبح کو میں نے ہوٹل میں نماز پڑھائی۔اس وقت میں اور ذوالفقار علی خان صاحب اور ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب تھے یعنی میرے پیچھے دو مقتدی تھے۔جب میں نے سلام پھیرا تو دیکھا سامنے منارہ ہے اور ہمارے اور اس کے درمیان صرف ایک سڑک کا فاصلہ ہے۔میں نے کہا یہی وہ منارہ ہے اور ہم اس کے مشرق میں تھے۔یہی وہاں سفید منارہ تھا اور کوئی نہ تھا۔مسجد امویہ والے منار نیلے رنگ کے تھے۔جب میں نے اس سفید منارہ کو دیکھا اور پیچھے دوہی مقتدی تھے تو میں نے کہا کہ وہ حدیث بھی پوری ہو گئی۔کہتے ہیں " ہو نہار بروا کے چکنے چکنے بات۔"خدا نے ابتداء سے ہی ایسے اسباب پید اکئے کہ خاص اشارات ظاہر ہونے لگے جہاز میں دوست میرے آگے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے۔جہاز کا ڈاکٹر آیا اور ہمیں دیکھتا رہا۔پھر اس نے سب کو گنا۔گننے کے بعد تھوڑی دیر سوچتا رہا۔پھر میری طرف دیکھ کر کہنے لگا کہ مسیح اور اس کے بارہ حواری۔ایسے فقرات خدا تعالی کی طرف سے کی زبان پر جاری ہوتے ہیں۔پھر میں سمجھتا ہوں کہ مساجد مذہبی ترقی سے بہت بڑا تعلق رکھتی ہیں وہ مساجد نہیں جو ضد کی وجہ سے دس بیس قدم کے فاصلے پر بنائی جائیں بلکہ وہ جو محض خدا کی عبادت کے لئے بنائی جائیں وہ جماعت کی ترقی کا پیش خیمہ ہوتی ہیں۔خدا تعالی فرماتا ہے ان اول بیت وضع للناس للذی ببكة مبرکاوهدی للعلمين ۷۶؎ کہ دنیا میں گھر پہلے بنناہی مسجد کے ذریعہ شروع ہوا اور خدا