انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 613 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 613

انوار العلوم جلد ۸ ۶۱۳ دورہ یورپ ९९ تکلیف نہ ہو ۔ اس کے متعلق بہائیوں نے کہا ہے کہ ہم کسی مرزا بدیع سے مدد مانگنے گئے تھے حالانکہ یہ بالکل غلط ہے۔ گورنر نے ہمارے ان آدمیوں کی بہت مدد کی جو پیچھے رہ گئے تھے۔ اسی طرح جب ہم دمشق میں گئے تو اول تو ٹھرنے کی جگہ ہی نہ ملتی تھی مشکل سے انتظام ہوا مگر دو دن تک کسی نے کوئی توجہ نہ کی۔ میں بہت گھبرایا اور دعا کی کہ اے اللہ پیشگوئی جو دمشق کے متعلق ہے کس طرح پوری ہو گی ۔ اس کا یہ مطلب تو ہو نہیں سکتا کہ ہم ہاتھ لگا کر واپس چلے جائیں تو اپنے فضل سے کامیابی عطا فرما۔ جب میں یہ دعا کر کے سویا تو رات کو یہ الفاظ میری زبان پر جاری ہو گئے ” عَبْدُ تُكرم " یعنی ہمارا بندہ جس کو عزت دی گئی ۔ اس سے میں نے سمجھا کہ تبلیغ کا سلسلہ یہاں کھلنے والا ہے۔ چنانچہ دوسرے ہی دن جب اٹھے تو لوگ آنے لگے یہاں تک کہ صبح سے رات کے بارہ بجے تک دو سو سے لے کر بارہ سو تک لوگ ہوٹل کے سامنے کھڑے رہتے اس سے ہوٹل والا ڈر گیا کہ فساد نہ ہو جائے ۔ پولیس بھی آگئی اور پولیس افسر کہنے لگا فساد کا خطرہ ہے ۔ میں یہ دکھانے کے لئے کہ لوگ فساد کی نیت سے نہیں آئے مجمع کے سامنے کھڑا ہو گیا۔ چند ایک نے گالیاں بھی دیں لیکن اکثر نہایت محبت کا اظہار کرتے اور ” هَذَا ابْنُ الْمَهْدِي" کہتے اور سلام کرتے ۔ مگر باوجود اس کے پولیس والوں نے کہا کہ اندر بیٹھیں ہماری ذمہ داری ہے اور اس طرح ہمیں اندر بند کر دیا گیا۔ اس پر ہم نے برٹش کونسل کو فون کیا اور اس نے انتظام کیا۔ گورنر نے اپنے بھائی کو بھیجا جس نے مجمع کو دیکھ کر کہا کہ یہ لوگ فسادی نہیں ملنے کے شوق سے آئے ہیں۔ میں نے کہا کہ ہمیں ان کی طرف سے تکلیف نہیں بلکہ پولیس کی طرف سے ہے جس نے بند کر دیا ہے۔ اس پر ایسا انتظام کر دیا گیا کہ لوگ اجازت لے کر اندر آتے رہے اور عجیب حالت تھی۔ ایک بڑھا بہت بڑا رئیس آیا اور کہنے لگا کہ آج مجھے پتہ لگا ہے کہ آپ آئے۔ پتہ لگا ہے کہ آپ آئے ہیں آپ مجھے سمجھائیں۔ میں نے اسے ہنستے ہوئے کہا کہ آپ لوگ جگہ تو دیتے نہیں رہیں کہاں۔ کہنے لگا ابھی میں آپ کی رہائش کا انتظام کرتا ہوں۔ ایک اور نے رقعہ کا ایک اور نے رقعہ لکھا کہ میں صبح سے ما اسے ملاقات کے لئے بیٹھا ہوں مگر مجھے موقع نہیں ملا۔ اب یہ رقعہ لکھتا ہوں کہ میں حضرت مسیح موعود پر ای؟ عود پر ایمان لایا ۔ آپ مجھے جہاں تبلیغ کے لئے بھیجیں، جانے کے لئے تیار ہوں۔ میں عربی، ترکی اور فارسی جانتا ہوں۔ ہیں سال تک پڑھاتا رہا ہوں۔ ہوں۔ ایران، ترکی، عرب جہاں کہیں تبلیغ کے لئے جانے کو تیار ہوں۔ اب میری آخری عمر ہے اس لئے چاہتا ہوں کہ خدا کے لئے کام کروں۔ غرض عجیب رنگ تھا کالجوں کے لڑکے اور پروفیسر آتے کا پیاں ساتھ لاتے اور جو میں بولتا