انوارالعلوم (جلد 8) — Page 612
۶۱۲ تیرہ سو سال کے پرانے اسلام کی طرف واپس جانا نہیں چاہتے جس سے بڑی مشکل سے آزادی حاصل کی ہے۔آپ مصر سے ہاتھ دھو بیٹھیں یہاں کوئی آپ کی بات سننے کے لئے تیار نہیں۔چودھری صاحب نے کہا ہم ضرور کامیاب ہوں گے اور کوئی تکلیف اور روک ہمیں حراساں نہیں کر سکتی۔اس پر اس نے کہا اگر یہ ارادے ہیں تو ضرور کامیابی ہو گی۔وہاں دو ہی دن میں معلوم ہو گیا کہ قلوب میں ایک تحریک ہے اور دو معزّز اور بااثر آدمیوں نے کہا کہ اگر آپ ٹھہریں توبیعت کر لیں۔ایک تو تُرک تھا جس نے کہا کہ میں یہاں دین کے لئے آیا تھا مگر معلوم ہوا کہ یہ لوگ دین کو چھوڑ چکے ہیں۔میں آپ کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتا ہوں۔فلسطین میں بھی خدا نے عجیب سامان پید اکئے - ہم سٹیشن پر اترے تو ایک شخص آیا اور کہنے لگا کہ آپ نواب صاحب ہیں؟ میں نے کہا نہیں۔وہ کسٹم کا افسر تھا۔وہاں لے گیا۔پھر اس نے پوچھا کہ آپ نواب صاحب ہیں؟ ہم نے کہا ہم نواب نہیں ہیں۔اس نے کہا کہ ہمارے پاس گو ر نمنٹ کی طرف سے چِٹھی آئی ہوئی ہے۔ہم بار بار انکار کرتے۔اور وہ کہتا کہ کچھ نہ پوچھو نواب صاحب ہی ہیں۔اس طرح ہم کسٹم کی تکلیف سے بچ گئے اور جا کر گاڑی میں بیٹھ گئے۔آخر معلوم ہوا کہ محمد اسماعیل صاحب بنگال کے ایک شخص تھے ان کے لئے کسی نے خط لکھا تھا وہ تو نہ آئے اور اس تاریخ ہم پہنچ گئے اور اس طرح تکلیف سے بچ گئے باوجود نواب ہونے سے انکار کرنے کے۔اس افسر نے ان کا نام بھی بتایا اور کہا کیا آپ کا نام محمد اسماعیل ہے۔میں نے کہا نہیں۔میرا نام تو محموو احمد ہے کہنے لگا مجھے بھول گیا ہو گا، بڑے افسر کے پاس چلیں۔وہاں گئے تو اس نے بھی ہماری بات نہ مانی۔پھر بیت المقدس میں جاتے ہی اس قسم کے سامان پیدا ہو گئے کہ ملکی کونسل کے پر یذیڈنٹ نے چائے پر بلایا اور اس موقع پر اس نے کچھ ہوشیار ممبروں کو بھی بلایا ہوا تھا۔اس طرح اعلیٰ لوگوں سے ملاقات اور تبلیغ کا موقع مل گیا۔پھر گورنر سے ایک دن ملاقات ہوئی۔اس نے دعوت کی اور بہت دلچسپی کا اظہار کیا اور اس نے اپنے ایک دوست کو چِٹھّی لکھی کہ یہ بہت اعلیٰ دماغ کے انسان ہیں ان سے مل کر فائدہ اٹھاؤ - ان لوگوں میں دستور ہے کہ عورت گھر کی مالک سمجھی جاتی ہے اور مجلس میں اعلی ٰجگہ پر بیٹھتی ہے۔مگر اس نے خلاف عادت اس خیال سے کہ ہم نے کہلا بھیجا تھا کہ ہم عورتوں سے مصافحہ نہیں کریں گے۔دوسری طرف عورت کو بٹھایا۔اس کے سیکرٹری نے کہا بھی کہ اِدھر بیٹھئے مگر گورنر نے کہا نہیں اُدھر جگہ ہے اور اس طرف بٹھایا۔اس نے ہما را بہت ہی ادب و احترام کیا اور کہا کہ میں گو ر نر حیفہ کو فون کروں گا کہ آپ کو کسی قسم کی