انوارالعلوم (جلد 8) — Page 608
انوار العلوم جلد ۸ ۶۰۸ دورہ یورپ پس یہ محبت ہے جو رسول کریم اس کو دی گئی ۔ اب کیا رسول کریم ال خوشبو ، عورتوں اور صلوٰۃ محبت کرنے کی وجہ سے ( نَعُوذُ بِاللهِ) مشرک ہو گئے تھے ہر گز نہیں۔ بات یہ ہے کہ محبت ایسی چیز ہے جو مشترک رکھی گئی ہے اور نہ صرف یہ پسند کیا گیا ہے بلکہ حکم دیا گیا ہے کہ محبت کرو۔ حتی کہ یہ مومن کے لئے نشان رکھا گیا ہے کہ جو چیز اپنے لئے پسند کرے وہی دوسروں کے لئے پسند کرے جس کے معنی یہ ہیں کہ سب سے محبت کرے ۔ پھر رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ ایک دوسرے کو ہدیہ دیا کرو تا کہ محبت بڑھے۔ ہے تو محبت کا پیدا کرنا اسلام کی اغراض میں سے ہے۔ اور اس کے متعلق اعتراض حقیقت سے دور ہے۔ ایسا اعتراض کوئی سمجھدار اور تعلیم یافتہ انسان کس طرح کر سکتا ہے۔ اس کا جواب یہی ہے کہ حسد سب کچھ کر ا لیتا ہے ۔ وہ کچھ اور تو کر ہی نہیں سکتا اس لئے وہ اعتراض کر کے اپنا دل ٹھنڈا کرنا چاہتا ہے۔ سے خدا تعالیٰ نے اس سفر میں جو نشان دکھائے ہیں ان کی طرف بھی اس مضمون میں اشارہ کیا گیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں گو ہمارے دوستوں کو تفصیلی طور پر حالات سفر کی اطلاعات ملتی رہی ہیں اور گو بعض دوستوں نے عمدگی سے اطلاعات پہنچانے کی کوشش کی ہے اگر چہ ان سے غلطیاں بھی ہوئی ہیں اور افسوس ناک غلطیاں ہوئی ہیں مگر جو دیکھنے والوں نے نظارہ دیکھا ہے وہ سننے سے معلوم نہیں ہو ہو سکتا۔ راستہ میں میں احباب کو کہتا ہتا تھا تھا تم تم لوگ لوگ تو تو اپنے اپنے آر آپ کو بادشاہ سمجھ بیٹھے تھے ۔ کیونکہ جو تمہارے متعلق کچھ کرتا اس سے مطالبہ کرتے تھے کہ اس نے یوں کیوں نہ کیا یوں ہونا چاہئے تھا۔ یہ نتیجہ تھا ان کامیابیوں کا جو خدا تعالیٰ نے دیں۔ مجھے ایک شخص نے جو انگلستان کے ایک اخبار تعلق رکھتا تھا کہا اور بعض اور نے بھی کہا کہ آپ لوگ اس اس کا اندازہ ہی نہیں کر سکتے جو کامیابی آپ لوگوں کو یہاں ہوئی ہے اور جس طریق سے پریس نے آپ کو مدد دی ہے ۔ مگر ہمارے دوست جو بیان اخبارات میں دیکھتے ہیں خیال کرتے ہیں کہ اس سے زیادہ ہونا چاہئے تھا۔ حالانکہ جس طرح ہمارے متعلق اخبارات نے توجہ کی ہے کبھی کسی بادشاہ کے متعلق بھی نہیں کی۔ ہمیں بتایا گیا کہ یہاں کے اخبارات کسی بڑے سے بڑے بادشاہ کے لئے تین چار دفعہ سے زیادہ ذکر نہیں کرتے اور پھر نہیں پوچھتے کہ کون ہے ۔ مگر آپ دو ماہ یہاں رہے اور ہر مو ہر موقع پر آپ کے متعلق اخبارات نے مضامین شائع کئے ہیں۔ اور اس طرح آپ کے کام میں مدد دی یہ بالکل غیر معمولی بات ہے۔ انگلستان کے اخبارات کی جو طاقت ہے اس کا یہاں اندازہ بھی نہیں لگایا جا سکتا۔ ایک دکاندار نے بتایا کہ وہ چھوٹے سے اشتہار کا چار لاکھ روپیہ سالانہ دیتے ہیں۔ اور وہاں کے