انوارالعلوم (جلد 8) — Page 606
انوار العلوم جلد ۸ ५۔५ دورہ یورپ آپ کے بغیر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہر چیز کھو کھلی ہو گئی ہے۔ پس اس سفر سے ایک عظیم الشان فائدہ یہ ہوا ہے کہ ہم نے اپنے قلوب کو پڑھا ہے اور اس طرح پڑھا ہے جیسا آج تک کبھی نہیں پڑھا تھا اور اس مطالعہ سے ہمارے ایمان میں بھی ترقی ہوئی ہے اور جماعت کے اتحاد میں بھی۔ اس میں شبہ نہیں کہ ہمارے دشمنوں کے لئے یہ محبت اور الفت حیرت اور حسد کا موجب ہو گی اور ہو رہی ہے مگر یہ ہمارے بس کی بات نہیں۔ بعض لوگ جن کی اولاد نہیں ہوتی جب ماں باپ کو بچہ سے پیار کرتے دیکھتے ہیں تو چڑتے ہیں اور کہتے ہیں کون نہیں جانتا ماں باپ کو بچوں سے محبت ہوتی ہے پھر دوسروں کو دکھانے کی کیا ضرورت ہے ۔ مگر یہ حسد ہوتا ہے جس کی وجہ سے ماں باپ کا بچوں ۔ وں سے پیارا نہیں برا لگتا ہے ۔ برا لگتا ہے ۔ ان کا دل جلتا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ کہتے ہیں کہ یہ کیا لاؤ ہے۔ پس کئی لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ جن کی قسمت میں ہی یہ نہیں ہوتا کہ ان سے بھی کوئی محبت کرے یا وہ کسی سے محبت کریں ۔ ان کے دل سخت اور محبت سے خالی ہوتے ہیں۔ ان کے اندر کوئی ایسی چیز نہیں ہوتی جو لوگوں کی کشش کا باعث ہو اور لوگ ان کی طرف جھکیں اور جب وہ کسی کی طرف لوگوں کو جھکتے اور محبت کرتے دیکھتے ہیں تو چڑتے اور جلتے ہیں۔ اس موقع پر بھی ایسے لوگ تلملا ئیں گے اور جلن سے مجبور ہو کر کہیں گے کہ یہ تو شرک ہے حالانکہ شرک خدا تعالیٰ کی محبت میں کسی کو شریک کرنا ہوتا ہے نہ کہ خدا تعالیٰ کی محبت کے حصول کے لئے کسی سے محبت کرنا شرک ہے ۔ خدا تعالیٰ کی بعض صفات ایسی ہیں جن میں کوئی شریک نہیں ہو سکتا اور بعض ایسی میں جن میں سب انسان شریک ہوتے ہیں۔ مثلاً پانی پلانا ہے خدا تعالیٰ بھی پانی پلاتا ہے اور بندہ بھی ۔ اب اگر کوئی شخص کسی سے کہے کہ مجھے پانی پلاؤ اور اس پر دوسرا کہے کہ چونکہ اس نے ایک انسان کو کہا ہے کہ پانی پلاؤ اس لئے یہ مشرک ہو گیا ہے تو یہ کہنے والے کو پاگل ہی کہا جائے گا۔ لیکن جسمانی مردہ کو زندہ کرنا خدا تعالیٰ کی ایسی صفت ہے جس میں کوئی انسان شریک نہیں ہو سکتا اس لئے کہ اگر یہ کہا جائے کہ فلاں انسان مردہ کو زندہ کر سکتا ہے یا اس نے کیا ہے تو یہ شرک ہو گا۔ کیونکہ یہ بات خدا تعالیٰ نے خاص اپنے لئے رکھی ہے۔ اب دیکھو خدا تعالیٰ سے محبت کرنے کا بندوں کو حکم ہے ۔ مگر خدا تعالیٰ میں نہیں کہتا بلکہ یہ بھی کہتا ہے کہ خدا کی مخلوق سے بھی محبت کرو اور رسول کریم ا فخر کرتے ہیں کہ تین چیزیں مجھے سب سے زیادہ پسند ہیں اور ان سے میں محبت کرتا ہوں۔ چنانچہ فرماتے ہیں۔ مُحبّبَ إِلَيَّ مِنْ دُنْيَاكُمْ ثَلاثُ - الطَّيبُ وَالنِّسَاءُ وَقُرَّةُ عَيْنِي فِي الصلوۃ ہے کہ مجھے ایک تو خوشبو کی محبت ہے ۔ ایک عورتوں کی اور ایک نماز کی۔ اب اگر