انوارالعلوم (جلد 8) — Page 605
۶۰۵ اظلال میں ہوتاہے۔دنیا میں بہت سی چیزیں ایسی ہیں جن کے اندازے نہیں لگائے جاسکتے۔مثلاً بہت قیمتی چیز جان سمجھی جاتی ہے۔یا بعض کے نزدیک مال ہے یا جن کے نزدیک عزت۔مگر کئی چیزیں ایسی ملیں گی جن پر جان، مال اور عزت قربان کر دی جاتی ہے پھر ان چیزوں کے بھی آگے مدارج ہیں۔دس، بیس، پچاس ، سَو چیزیں ایسی ہوں گی جن کے لئے جان قربان کی جائے گی مگر ان سب کو برابر نہیں کہہ سکتے۔بعض ایک درجہ پر ہوں گی، بعض دوسرے درجہ پر بعض تیسرے درجہ پر ،حتی کہ بعض میں سینکڑوں ہزاروں اور لاکھوں گنا فرق ہو گا۔اسی طرح باوجود یکہ ماں باپ کی محبت کامل ہوتی ہے لیکن پھر بھی یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ نمونہ یا معیار ہے تمام تعلقات کی محبت کا۔یہی وجہ ہے کہ خدا تعالی قرآن کریم میں اپنے اور رسولوں کے متعلق اور رسول کریم ﷺ اپنے کلام میں فرماتے ہیں کہ اس وقت تک کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا جب تک خدا اور رسول سے ماں باپ سے زیادہ محبت نہ کرے ادھر قرآن شریف میں خدا تعالی فرماتا ہے۔جیسا سلوک تم سے کوئی کرتا ہے ویسایا اس سے زیادہ اچھامو من کرے ، ۷۳؎ اور جب یہ ایک عام مومن کی شان ہے تو یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ایک رسول امتی سے تو یہ امید رکھے کہ وہ اللہ اور رسول سے ماں باپ سے بڑھ کر محبت کرے مگر رسول امتیوں سے ماں باپ سے کم محبت کرے۔رسول کی محبت بد رجہ اولیٰ ماں باپ کی محبت سے بڑھ کر ہوگی۔اور اس کے یہ معنی ہوئے کہ ہر رسول اپنے امتیوں سے ایسی محبت رکھتا ہے کہ ماں باپ کی محبت اس کی محبت کے مقابلے میں کوئی حقیقت نہیں رکھتی۔ادھر خداتعالی فرماتا ہے کہ بہتراور بڑھ کر بدلہ دو- اور ادھر کہتا ہے کہ رسول سے ماں باپ سے زیادہ محبت کرو۔پس جب امتی کے لئے یہ حکم ہے تو رسول کی محبت کا اندازہ ہی نہیں ہو سکتا کیونکہ جب امتی سے ماں باپ سے زیادہ رسول سے محبت کرنے کے لئے کہا جاتا ہے تو رسول کی محبت اس سے بہت ہی زیادہ ہونی چاہئے۔اور یہ اس قدر زیادہ ہے کہ اس کا کوئی معیارہی نہیں ہے۔یہ راز مجھ پر اس سفر میں کھلا ہے اور جس طرح مجھ پر یہ راز کھلا ہے اور یہ نکتہ معلوم ہواہے کہ انبیاء اور ان کے اظلال کی محبتیں اور قسم کی ہوتی ہیں ماں باپ کی محبت جیسی نہیں ہوتیں۔اسی طرح جماعت کے بہت سے افراد پر یہ حقیقت کھلی ہے کہ خلیفہ سے جو محبت اور جو تعلق انہیں ہے وہ پہلے معلوم نہ تھا۔اس سفر کے دوران میں سینکڑوں خطوط مجھے ایسے ملے ہیں جن میں لکھا تھاکہ ہمیں آپ سے بڑی محبت تھی مگر ہم اس محبت کو ایسا نہیں سمجھتے تھے جیسااب معلوم ہوا ہے