انوارالعلوم (جلد 8) — Page 604
۶۰۴ بسم الله الرحمن الرحيم نحمدہ و نصلی على رسولہ الكريم سفر یورپ میں غیر معمولی کامیابی (۲۴- نومبر ۱۹۲۴ء کو حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی خدمت میں اہل قادیان کی طرف سے عصر کی نماز کے بعد بیت اقصیٰ میں جو سپاس نامہ مولانا مولوی شیر علی صاحب نے پیش کیا اسے سننے کے بعد حضورنے حسب ذیل تقریر فرمائی۔) جو مضمون ابھی ابھی مولوی شیر علی صاحب نے اہالیان قادیان جماعت احمدیہ کی طرف سے پڑھ کر سنایا ہے میں اس کے جواب میں سب احباب کو جزاكم الله أحسن الجزاء اپنی طرف سے اور اپنے ہمراہیانِ سفر کی طرف سے کہتا ہوں۔اللہ تعالیٰ میرے ان الفاظ کو قبول فرما کر حقیقی طور پر آپ لوگوں کو نیک جزاء دے۔اس سفر کے متعلق جو باتیں بیان کی گئی ہیں میرے نزدیک ان میں سے ایک نہایت ہی اہم بات جو ہمیں معلوم ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ ہم خود اپنے نفوس کو اس طرح نہیں سمجھتے تھے جس طرح اس سفر میں سمجھا۔میں ہمیشہ سے یہ سمجھتا تھا اور اس بات کا میں نے کئی بار اظہار بھی کیا کہ میں اپنے دل میں جماعت احمدیہ کے متعلق ایسی محبت اور اُلفت پا تا ہوں کہ میں نہیں مان سکتا کہ کوئی باپ بھی اپنے بیٹوں سے اس طرح محبت رکھتا ہو مگر اس سفر میں مجھے یہ معلوم ہوا کہ خدا تعالی نے میرے دل میں جماعت کی وہ محبت رکھی ہے کہ اسے باپ کی محبت سے نسبت بھی نہیں دی جا سکتی کیونکہ درحقیقت وہ محبت ظل ہے حضرت مسیح موعود کی محبت کا اور حضرت مسیح موعود کی محبت ظل ہے خدا تعالی کی محبت کا اس وجہ سے یہ محبت کا سلسلہ ماں باپ کی محبت سے جداگانہ ہے۔وہ عارضی تعلق کی وجہ سے پیدا ہوتا اور یہ دائمی تعلق کی وجہ سے۔اور جو فرق عارضی اور دائمی چیزوں میں ہوتا ہے وہی فرق خدا تعالی اور ماں باپ کی محبت میں ہے۔اور جو فرق عارضی اور دائمی چیزوں کے اظلال میں ہوتا ہے وہی فرق انبیاء اور ان کے اظلال اور ماں باپ کی محبت کے