انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 602 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 602

۶۰۲ دوسرے وہ تعلیم اس زمانہ کے حسب حال تو ہو سکتی تھی۔آج نہیں جُوں جُوں انسانی عقل و فہم ترقی کرتا گیا اور اس کی ضرورتیں بدلتی گئیں، خدا تعالی کی تعلیم اس کے حسب حال ملتی گئی یہاں تک کہ انسان بلوغ کے درجہ تک پہنچ گیا اور خدا نے اسلام ایک کامل دین دنیا کو دے دیا۔ایک اور لڑکا:- روح جو اس وقت تھی اور جو روح آج ہے، کیا اس میں فرق ہے؟ حضرت: بہ حیثیت روح کے فرق نہیں۔وہی لڑکا۔پھر وہ تعلیم کیوں اس کے حسب حال نہیں؟ حضرت:- ایک بچہ کی روح اور بالغ انسان کی روح میں کوئی فرق ہے؟ لڑکا: نہیں۔حضرت:۔تو کیا تم اس بچہ کو وہی ہدایات دے سکتے ہو جو ایک بالغ کو دیتے ہو؟ لڑكا: نہیں۔حضرت:۔کیوں جب کہ دونوں کی روح برابر ہیں؟ لڑکا:- یہ تو نئی انٹیلیکچول فیکلٹیز (Intellectual Faculties) کا فرق ہے۔حضرت:۔پھر جب آپ اس فرق سے یکساں ہدایات نہیں دے سکتے تو روحانی ارتقا کے ساتھ یہ کیونکر ممکن ہے کہ جو تعلیم اس کے ابتدائی درجہ میں موزوں تھی آج وہی دی جاوے۔ایک بچہ کے کپڑے خواہ نئے ہی ہوں وہ جوان آدمی کے قابل نہیں ہوتے۔لیکن جہاں یہ حالت ہو کہ وہ پھٹ کر بوسیدہ ہو گئے ہوں، وہ ایک جوان آدمی کے استعمال میں کس طرح آسکتے ہیں۔یہی حال ہندو اِزم کی اس تعلیم کا ہے۔(اس پر وہ لڑکا تو خاموش ہو گیا اور ایک دوسرا ہندو نوجوان بولا) ہندو نوجوان: فیکلٹیز (FACULTIES) کا سوال نہیں صرف روح کا سوال ہے۔حضرت : فیکلٹیز کو روح سے الگ کس طرح کرو گے؟ وہی لڑ کا: اس وقت تو زمانہ اور بھی ترقی کر گیا ہے۔،پھر اسلام کی تعلیم کس طرح کافی ہو سکتی ہے؟ حضرت:- یہ تو واقعات سے ثابت ہے۔اسلام کی تعلیم اس زمانہ کے لئے کافی ہے۔آپ کوئی بات پیش کریں میں دکھادوں گا کہ اسلام کی تعلیم اس ضرورت کو پورا کرتی ہے۔اسلام نے شراب کی حُرمت کا حکم دیا ہے۔اب اس زمانہ کے لوگ اس کی ضرورت کو تسلیم کر رہے ہیں یا نہیں۔وہی لڑکا:- ہندو مذہب نے بھی یہی تعلیم دی ہے۔