انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 600 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 600

انوار العلوم جلد ۸ ۶۰۰ دورہ یورپ ساتھ اپنے حکم کو مؤکد کرتا ہے۔ یہ قرآن شریف کی اصطلاح میں حکمت ہے۔ اس طرح پر جب انسان اخلاقیات میں ترقی کر کے با اخلاق انسان بن جاتا ہے تو پھر اسے باخدا انسان بنانے کے لئے تعلیم دیتا ہے۔ اور اسے ایسے مقام پر پہنچا دیتا ہے کہ وہ خدا سے قرب حاصل کر کے اس سے کلام کرتا ہے۔ اور اس سے وہ باتیں سرزد ہوتی ہیں جو لوگوں کی نظروں میں عجیب ہوتی ہیں اور حقیقت میں خدا کی قدرتوں کا نمونہ - پھر آپ نے حیات بعد الموت کی حقیقت بیان کی اور بتایا کہ انسان کی روحانی ترقی کا سلسلہ مرنے کے بعد بھی جاری رہتا ہے۔ اس مسئلہ کے سمجھانے کے لئے آپ نے اول یہ سمجھایا کہ روح کہیں باہر سے نہیں آتی بلکہ وہ پیدا ہوتی ہے اور جسم ہی سے پیدا ہو جاتی ہے مگر باوجود اس کے وہ جسم نہیں ہوتی۔ جیسے شراب اگرچہ انگور سے بنائی جاتی ہے مگر شراب کو انگور نہیں کہا جاتا۔ روحانی ارتقاء ہوتا رہتا ہے اور جب انسان فوت ہو جاتا ہے تب بھی روح اپنی منازل کو طے کرتی رہتی ہے یہاں تک کہ وہ اس کامل درجہ کو پالیتی ہے۔ حضرت مسیح موعود نے یہ بھی آکر بتایا کہ یہ خیال جو غلطی سے مسلمانوں میں پھیلا ہوا ہے کہ مرنے کے بعد ارواح کسی ایک مقام پر رکھی جاتی ہیں صحیح نہیں ہے بلکہ جس طرح انسان ماں کے رحم میں ہوتا ہے اور وہاں مختلف مدارج طے کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ پھر ایک وقت آجاتا ہے کہ پھر وہ باہر آجاتا ہے۔ اسی طرح قبر بھی ایک قسم کا رحم ہی ہے مرنے کے بعد ساتھ ہی روح کو ایک اور جسم جو اس جسم کے مقابلہ میں روحانی ہوتا ہے مل جاتا ہے۔ گویا اس جسم کی روح اس روح کا جسم ہو جاتی ہے۔ اور اس طرح پر وہ اپنے ارتقاء کی منازل کو طے کرتی ہے۔ اور اگر اس میں کوئی نقص اور کمزوریاں ہوتی ہیں تو اس اعلیٰ مقام لقاء اللہ کے پانے کے لئے تیار کرنے کے واسطے دوزخ میں بطور علاج کے جاتی ہے۔ دوزخ ایک ہسپتال کی طرح ہے۔ حضرت مسیح موعود نے بتایا کہ اسلام نے یہ تعلیم نہیں دی کہ ہمیشہ دوزخ ہی میں وہ لوگ رہیں گے جن کو دوزخ میں داخل کیا جائے گا بلکہ دوزخ محض ایک ہسپتال ہے۔ لوگ اس میں سے شفاء پاکر نکل آئیں گے تاکہ وہ خدا کے فیوض کو حاصل کرنے کی قابلیت حاصل کرلیں۔ اس طرح پر حضرت مسیح موعود نے اسلام ہی کو پیش کیا ہے اور اس کی حقیقت اور فلسفہ کو معقولی طور پر ہی نہیں بلکہ خدا کی تائیدات سے ثابت کر دیا ہے کہ اسلام جس خدا کی طرف دعوت دیتا ہے وہ مردہ خدا نہیں بلکہ زندہ خدا ہے اور جس طرح وہ پہلے نبیوں سے بولتا تھا آج بھی یہ عزت