انوارالعلوم (جلد 8) — Page 585
انوار العلوم جلد ۸ ۵۸۵ دورہ یورپ بڑے آدمی ہیں انہوں نے لکھا ہے کہ اگر میں امریکہ جاؤں تو وہ ہر طرح مدد کرنے کے لئے تیار ہیں۔ ایک خط بوسٹن سے آیا ہے دو سرا نیو یارک سے اور تیسرے کا پتہ اس وقت یاد نہیں۔ مگر میں سلسلہ کی اہم مرکزی ضروریات کی وجہ سے نہیں جا سکتا تاہم اس سے معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ میں لوگوں کو بہت توجہ ہو رہی ہے۔ تیسرا شخص :- اگر انسان تعصبات سے الگ ہو کر قرآن اور بائبل قرآن اور بائبل کا مطالعہ کا مطالعہ کرے اور مقابلہ کرتا جاوے تو کیا اس طرح پر مطالعہ کرنے سے اس پر آنحضرت ﷺ کی فضیلت مسیح پر کھل جائے گی اور مسیح موعود کی فضیلت بھی۔ حضرت صاحب :- محض پڑھ لینے سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ مطالعہ سے پہلے ایک تو اس مقصد کو قائم کر لینا چاہئے جس کے لئے اس نے مطالعہ شروع کیا ہے ۔ دوسرے ایک معیار مقرر کرنا ہو گا کہ فضیلت اس کے لحاظ سے ثابت ہو گی۔ اگر مطالعہ کرنے والا صحیح نقطہ خیال کو مد نظر رکھے گا تو وہ صحیح نتیجہ کو پالے گا۔ آنحضرت کی فضیلت مسیح پر بہت طریقوں سے ثابت ہے اور واضح ہے کیا بلحاظ تعلیم کے کیا بلحاظ تعلیم کے اثرات کے ۔ اگر ایک ایک بات کی جاوے اور اس میں مسیح کی تعلیم اور اس کے اثرات کو دیکھیں اور بالمقابل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم اور اس کے نتائج کو دیکھیں تو حیرت انگیز فرق اور امتیاز معلوم ہوتا ہے اور انسان کو ماننا پڑتا ہے کہ آنحضرت ا افضل ہیں ۔ حضرت مسیح کوئی شریعت لے کر نہ آئے تھے مگر آنحضرت اللہ ایک دائمی شریعت اور کامل قانون اور کتاب لے کر آئے اور پھر حضرت مسیح کی تعلیم اخلاقی صرف ایک پہلو پر زور دیتی تھی قطع نظر اس کے کہ اس سے کوئی اصلاح ہو سکتی ہو یا نہ ہو مگر آنحضرت ا نے جو تعلیم دی ہے وہ یہی نہیں کہ تمام پہلوؤں کی تربیت کرتی ہے بلکہ وہ ایسی کامل ہے کہ وہ اصلاح کی قوت اپنے اندر رکھتی ہے پھر مسیح ہی نہیں کہ کوئی نئی تعلیم نہیں لایا بلکہ اس نے اقرار کیا کہ کوئی نئی بات لے کر نہیں آیا جیسا کہ پہاڑی وعظ میں اس نے اقرار کیا ہے ۔ پس اس غرض کے لئے متقابل مطالعہ شروع کرنے سے پہلے معیار صداقت و فضیلت قائم کرنا چاہئے اور ایک ایک بات لے کر دیکھا جاوے۔ قرآن اور بائبل کا آپ مقابلہ کریں گے تو صاف کھل جائے گا کہ قرآن کریم کی تعلیم بہت اعلیٰ ہے اور مسیح صرف ایک محدود قوم اسرائیل