انوارالعلوم (جلد 8) — Page 568
انوار العلوم جلد ۸ ۵۶۸ دورہ یورپ جس قدر کوئی غلیظ ہو لوگ اسے صوفی کہہ دیں گے مگر یہاں یہ بات نہیں۔ سے خدا سے پنجاب میں ایک شخص کو تبلیغ کی جاتی تھی اور اسے کچھ توجہ بھی تھی مگر پرنس آف ویلز کے جانے پر جب کہ میں بھی لاہو ر گیا تو اس نے مجھے دیکھا۔ اس کے بعد جب اس کو تبلیغ کی گئی تو اس نے کہا میں کیسے مان لوں کیونکہ اس نے تو بانات کا کوٹ پہنا ہوا تھا۔ کوٹ تو سرج کا تھا اور اس نے یہی سمجھ لیا کہ ایسا کوٹ پہننے تعلق نہیں ہوتا۔ بہت سے لوگ حضرت صاحب پر اعتراض کرتے تھے کہ یہ پلاؤ کھاتے ہیں۔ قادیان میں ایک ہندوڑ پٹی تھا اس نے حضرت خلیفہ اول کو کہا کہ اگر آپ ناراض نہ ہوں تو ایک بات میں پوچھنا چاہتا ہوں۔ مولوی - مولوی صاحب نے کہا پوچھئے ۔ تو اس نے کہا کہ سنا ہے مرزا صاحب بادام روغن استعمال کرتے ہیں۔ مولوی صاحب نے کہا کہ ہمارے ہاں حلال ہے۔ میرا مطلب یہ ہے کہ ہندوستان کی حالت اور ہے۔ وہاں لوگ خدا پرستی اور کمال کا اندازہ ایسی چیزوں سے کرتے ہیں جن کا ان باتوں سے تعلق نہیں اور وہاں صفائی کا نہ ہونا معیوب نہیں سمجھتے مگر یہاں یہ حالت نہیں اس لئے مکان کی اور باغ کی اور اپنی صفائی کا خیال رکھنا چاہئے ۔ یہ صرف اسی لئے ضروری نہیں کہ یہاں ان باتوں کا اثر پڑتا ہے بلکہ اسلام نے خود اس کو ضروری قرار دیا ہے پس ان ظاہری امور کا خیال رکھو ۔ اگر کسی امر میں افسر ماتحت میں اختلاف ہو تو ماتحت کا فرض ہے کہ وہ افسر کے احکام کی اطاعت اور تعمیل کرے ۔ البتہ اسے یہ حق ہے کہ وہ اپنے اختلاف کے متعلق بطور اپیل، پیش کرے۔ شکایت کے طور پر نہ ہو ۔ جو بلاوجہ پیش کرتا ہے وہ غیبت کرتا ہے اس سے بچو ۔ اسی طرح بعض اوقات افسر دیکھتا ہے کہ ماتحت با قاعدہ کام نہیں کرتا یا اس کے احکام کی خلاف ورزی کرتا ہے تو وہ لکھتا ہے کہ میں شکایت نہیں کرتا مگر وہ ایسا کرتا ہے یہ بزدلی کی بات ہے صاف طور پر لکھنا چاہئے ۔ ایسا ہی ما ایسا ہی ماتحت جب لکھے تو وہ مثال اور واقعات کی بناء پر لکھے۔ یونہی کسی بات کا بلا وجہ معقول پیش کر دینا قابل غور نہیں ہو گا۔ افسر کو چاہئے کہ جرأت سے کام لے۔ جب تک جرأت سے کام نہ ہو وہ نہیں ہو سکتا۔ بزدلی سے یہی نہیں کہ کام نہیں ہوتا بلکہ خراب ہوتا ہے اور فساد بڑھتا ہے ۔ باقی کام کی تفاصیل اور ہدایات بتادی جائیں گی۔ مبلغ کا فرض ہو گا کہ ہمارے جو طالب علم آتے ہیں ان کو شریعت کی پابندی کرائے دل نہ