انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 561 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 561

۵۶۱ آئے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کانفرنس کامیاب ہوئی ہے۔لیکن میں یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتا کہ اس سے اصلی فائدہ اسی وقت مرتب ہو گا جب کہ تمام مذاہب کے نمائندے اور لیڈر ان تمام خیالات پر پوری توجہ کریں جو یہاں مختلف مذاہب کے نمائندوں نے بیان کئے ہیں ورنہ دوسرے لوگوں کو یہ خیال ہو سکتا ہے کہ سب اپنی جگہ درست ہیں اس سے امن قائم نہیں ہوتا۔ضروری چیز جس سے بناءِ محبت قائم ہوگی وہ یہی ہے کہ ہم مفید اور کامل تعلیم کو اختیار کریں۔میں ایک مسلم احمدی ہوں اور کامل یقین سے جو تجربہ اور معرفت سے پیدا ہوا ہے کہتا ہوں کہ اسلام حق ہے اور اس کے میرے پاس زبردست دلائل ہیں لیکن باوجود اس کے میرا یہ حق نہیں ہے کہ میں یہ کہوں کہ دوسرے کے خیالات نہ سنیں بلکہ میں ضروری سمجھتا ہوں کہ ہر شخص کے عقائد اور تعلیم کو سن کر ہم غور کریں کہ ہم اس راستے کو پالیں جو خدا کی مرضی کے موافق ہے نہ اپنے ارادے کے ماتحت ہوں یہ اپنی نفسانیت کی پیروی ہو گی۔میں سچ کہتا ہوں کہ میں نے تمام لیکچروں کو اسی نیت سے سنا ہے اور میں نے ہر ایک پر غور کیا ہے۔یہ بات آج مجھ میں پیدا نہیں ہوئی۔میں گیارہ برس کی عمر کا تھا جب میں نے سوچا کہ کیا مجھے اس لئے احمدی ہونا چاہئے کہ میرا باپ اس سلسلہ کا بانی ہے۔میں اس پر غور کرنے کے لئے الگ چلا گیا اور میں نے یہ فیصلہ کر لیا کہ اگر یہ حق نہیں تو میں اس کی مخالفت کروں گا مگر خدا نے مجھ پر اس حقیقت کو کھول دیا کہ یہ سلسلہ حق ہے اور خدا نے اس کو قائم کیا ہے اور اب کوئی چیز مجھ کو اس سے الگ نہیں کر سکتی۔پس دوسرے مذاہب کے لوگوں کو کوشش کرنی چاہیے کہ جو کچھ انہوں نے سنا ہے اس پر غور کریں اور اس طرح پر اپنے وقت اور روپیہ کو مفید بنائیں۔میں سرراس اور ان کی کمیٹی کو یقین دلاتا ہوں کہ وہ اس کا نفر نس کو وسیع اور مضبوط کرنے کے لئے اپنی کوششوں کو جاری رکھیں میں اور میرے متبعین اس سے زیادہ مدد دینے اور ہاتھ بٹانے کو تیار رہیں گے جو اس مرتبہ کی ہے۔مجھ کو اس کانفرنس میں یہ معلوم کر کے بہت خوشی ہوئی کہ نقط خیال کس طرح بدل جاتا ہے۔اب تک قرآن مجید کی تکذیب کی جاتی تھی اور اس پر یہ اعتراض کیا جاتا تھا کہ اس میں پہلے مذاہب کی صداقتیں کیوں ہیں۔حالانکہ قرآن مجید کا دعویٰ ہے تھا کہ اگه به ۶۰؎ کوئی صداقت اور حق بھی ہو وہ قرآن مجید میں موجود ہے۔لیکن اب اس کانفرنس میں یہ حقیقت معلوم ہوئی کہ جو بھی سچی بات کہے وہ حق ہے اور اسی صداقت کو قوی کرنا چاہئے۔نقطہ نگاہ کے تبدیل ہونے سے کہاں سے کہاں آ پہنچے ہیں اور اگر اس طرح غور