انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 555 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 555

۵۵۵ جنگِ اُحد کا دردناک واقعہ چنانچہ مثال کے طور پر میں اُحد کی جنگ کا واقعہ بیان کرتا ہوں- مدینہ آنے کے تین سال بعد کفار مکہ نے تین ہزار کا لشکر تیار کرکے مدینہ پر حملہ کیا- مدینہ مکہ سے دوسومیل کے فاصلہ پر ہے- دشمن اپنی طاقت پر ایسا نازاں تھا کہ مدینہ تک حملہ کرتا ہوا چلا آیا اور مدینہ سے آٹھ میل پر اُحد کے مقام پر رسول کریمؐ اس کو روکنے کے لئے گئے- آپ کے ساتھ ایک ہزار سپاہی تھے- آپ نے جو احکام دیئے اس کے سمجھنے میں ایک دستہ فوج سے غلطی ہوئی- نتیجہ یہ ہوا کہ باوجود اس کے کہ مسلمانوں کو پہلے فتح ہوچکی تھی دشمن پھر لوٹ پڑا اور ایک وقت ایسا آیا کہ دشمن نے زور کرکے مسلمانوں کو اس قدر پیچھے دھکیل دیا کہ صرف رسول کریمﷺ دشمنوں کے نرغے میں رہ گئے- آپ نے جرأت اور دلیری کا یہ نمونہ دکھایا کہ باوجود اس کے کہ اپنی فوج پیچھے ہٹ گئی تھی مگر آپ پیچھے نہ ہٹے اور دشمن کے مقابلہ پر کھڑے رہے- جب مسلمانوں کو معلوم ہوا کہ رسول کریم ﷺ اپنی جگہ سے نہیں ہٹے اور وہیں کھڑے ہیں تو انہوں نے یک دم حملہ کرکے آپ تک پہنچنا چاہا لیکن صرف چودہ آدمی آپ تک پہنچ سکے- اس وقت ایک شخص نے ایک پتھر مارا اور آپ کا سر زخمی ہوگیا اور آپ بے ہوش ہو کر زمین پر گر گئے اور آپ کو بچاتے ہوئے کئی اور مسلمان قتل ہو کر آپ پر جاگرے اور لوگوں نے یہ سمجھ لیا کہ آپ شہید ہوگئے ہیں- وہ لوگ ایک عاشق کی طرح تھے کئی لوگ میدان جنگ میں ہی ہتھیار ڈال کر بیٹھ گئے اور رونے لگے- ایک مسلمان جس کو اس امر کا علم نہ تھا وہ ایک ایسے شخص کے پاس سے گزرا اور اس سے پوچھا کہ کیا ہوا ہے؟ اس نے کہا کہ رسول کریم ﷺتو شہید ہوگئے ہیں- اس نے کہا آؤ! اس سے بڑھ کر لڑنے کا موقع کب ہوگا جہاں وہ ہمارا محبوب گیا ہے وہیں ہم جائیں گے- یہ کہہ کر تلوار ہاتھ میں لے کر دشمن کی صفوں پر ٹوٹ پڑا اور آخر مارا گیا- جب اس کی لاش کو دیکھا گیا تو ستّر زخم اس پر لگے ہوئے تھے۔۵۴؎ ایک وفادار صحابی کا واقعہ جو لوگ آپ کے پاس تھے انہوں نے جب آپ کے جسم کو لاشوں کے نیچے سے نکالا تو معلوم ہوا کہ آپ زندہ ہیں- اس وقت پھر لشکر اسلام جمع ہونا شروع ہوگیا اور دشمن بھاگ گیا- اس وقت ایک مسلمان سپاہی اپنے ایک رشتہ دار کو نہ پاکر میدان جنگ میں تلاش کرنے لگا۔آخر اسے میدان جنگ میں اس حالت میں پایا کہ اس کی دونوں لاتیں کٹی ہوئی تھیں اور سب جسم زخمی تھا اور اس کی آخری حالت معلوم ہوتی تھی- اس کو دیکھتے ہی اس زخمی نے پوچھا کہ رسول کریمﷺ کا کیا حال ہے- اس نے