انوارالعلوم (جلد 8) — Page 551
انوار العلوم جلد ۸ ۵۵۱ دورہ یورپ نامی ایک شہر کے لوگ (جسے اب مدینہ کہتے ہیں) حج کے لئے مکہ آئے تو آپ سے بھی ملے۔ آپ نے انکو اسلام کی تعلیم دی اور ان کے دلوں پر ایسا گہرا اثر ہوا کہ انہوں نے واپس جاکر اپنے شہر کے لوگوں سے ذکر کیا اور ستر (۷۰) آدمی دوسرے سال تحقیق کے لئے آئے جو سب اسلام لے آئے اور انہوں نے درخواست کی کہ آپ ان کے شہر میں چلے جائیں مگر آپ نے اسوقت انکی بات پر عمل کرنا مناسب نہ سمجھا۔ ہاں وعدہ کیا کہ جب ہجرت کا موقع ہوگا آ ہو گا آپ مدینہ بینہ تشریف لائیں گے۔ مدینہ کی طرف ہجرت جب اہل مکہ کو معلوم ہوا کہ اب باہر بھی آپ کی تعلیم پھیلتی شروع ہوئی ہے تو انہوں نے ہر قبیلہ میں سے ایک ایک آدمی مچنا تاکہ سب ملکر آپ کو قتل کر دیں اور یہ اس لئے کیا کہ اگر آپ کی قوم اسکو ناپسند کرے تو وہ سب قوموں کے اجتماع سے ڈر کر بدلہ نہ لے سکیں ۔ آپ کو اللہ تعالی نے پہلے سے بتا دیا تھا۔ آپ اسی رات مکہ سے نکل کر ابوبکر کو ساتھ لے کر مدینہ کی طرف ہجرت کر گئے جہاں کے لوگوں پر اسلام کی تعلیم کا ایسا اثر ہوا کہ تھوڑے ہی عرصہ میں قریباً سب مدینہ کے لوگ اسلام لے آئے اور آپ کو انہوں نے اپنا بادشاہ بنالیا اور اس طرح وہ کونے کا پتھر جسے اس شہر کے معماروں نے رد کر دیا تھا مدینہ کی حکومت کا تاج بنا۔ الله آب زمانہ ترقی میں حضور علیہ و سلم کا اسوہ اس ترقی کے زمانہ میں بھی آپ نے اپنا شغل تعلیم اور وعظ ہی رکھا اور اپنی سادہ زندگی کو کبھی نہیں چھوڑا ۔ آپکا شغل یہ تھا کہ آپ لوگوں کو خدائے واحد کی پرستش کی تعلیم دیتے ۔ اخلاق فاضلہ اور معاملات کے متعلق اسلامی احکام لوگوں کو سکھلاتے ۔ پانچ وقت نماز خود آکر مسجد میں پڑھاتے۔ (مسلمانوں میں بجائے ہفتہ میں ایک مرتبہ عبادت کرنے کے پانچ دفعہ روز مسجد میں جمع ہو کر عبادت کی جاتی ہے) جن لوگوں میں جھگڑے ہوتے آپ فیصلہ کرتے ۔ ضروریات قومی کی طرف توجہ کرتے جیسے تجارت ، تعلیم ، حفظان صحت وغیرہ ۔ اور پھر غرباء کے حالات معلوم کرتے اور انکی ضروریات کو پورا کرنے کی کوشش کرتے۔ حتی کہ جن لوگوں کے گھروں میں کوئی سودا لا دینے والا نہ ہوتا ان کے لئے سودا لا دیتے - پھر باوجود ان سب کاموں کے کبھی بچوں کے اندر قومی روح پیدا کرنے کے لئے ان میں جاکر شامل ہو جاتے اور انکو انکی کھیلوں میں جوش دلاتے ۔ جب گھر میں داخل ہوتے تو اپنی بیویوں سے مل کر گھر کا کام کرنے لگتے اور جب رات ہوتی اور سب لوگ