انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 550 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 550

۵۵۰ پوشیدہ طور پر جس قدر غلہ وہ داخل کرسکتے تھے کر لیتے تھے مگر پھر بھی اس قدر نگرانی میں وہ لوگ کہاں تک انتظام کرسکتے تھے- بہت دفعہ کئی کئی دن جھاڑیوں کے پتّے اور شاخوں کے چھلکے کھا کر ان کو گزارا کرنا پڑتا تھا- ایک صحابی کہتے ہیں کہ ان تکلیف کے دنوں میں سب کی صحتیں خراب ہوگئیں اور بہت دست لگ گئے- ہفتہ نہیں دوہفتہ نہیں تین سال متواتر وہ بہی خواہ بنی نوع انسان اپنے ماننے والوں کے ساتھ صرف اس لئے دکھ دیا گیا کہ وہ کیوں خدائے واحد کی پرستش اور اعلیٰ اخلاق کی تعلیم دیتا ہے مگر اس نے ان تکالیف کی ذرہ بھی پرواہ نہیں کی- تین سال کی متواتر تکلیف کے بعد بعض رؤسا مکہ کی انسانیت اس ظالمانہ فعل پر بغاوت کرنے لگی اور انہوں نے اس معاہدہ کو جو رسول کریمؐ کے خلاف کیا گیا تھا چاک کردیا اور آپ اس وادی سے نکل کر باہر آگئے مگر آپ کے بوڑھے چچا اور وفادار بیوی ان صدمات کے اثر سے نہ بچ سکے اور کچھ دنوں کے بعد فوت ہوگئے۔اہلِ طائف کو تبلیغ اہل مکہ کی بے پروائی کو دیکھ کر آپ نے عرب کے دوسرے شہروں کی طرف توجہ کی طرف توجہ کی اور طائف کے لوگوں کو خدائے واحد کی پرستش کی دعوت دینے کے لئے تشریف لے گئے- طائف مکہ سے ۶۰ ساٹھ میل کے فاصلہ پر ایک پُرانا شہر ہے- اس شہر کے لوگوں کو جب آپ نے خدا کا کلام سنایا تو وہ مکہ والوں سے بھی زیادہ ظالم ثابت ہوئے پہلے انہوں نے گالیاں دیں پھر کہا شہر سے نکل جاویں - جب آپ واپس آرہے تھے تو بدمعاشوں اور کتّوں کو ان کے پیچھے لگا دیا- پتھر پر پتھر چاروں طرف سے آپ پر پڑتے تھے اور کتے پیچھے دوڑتے تھے سر سے پاؤں تک آپ خون سے تر بہ تر تھے۔مگر اس وقت ان ظالموں کی نسبت جو خیالات آپ کے دل میں موجزن تھے وہ ان الفاظ سے ظاہر ہیں جو اس سنگساری کے وقت آپ کی زبان پر جاری تھے- آپ خون اپنے جسم سے پونچھتے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے کہ اے خدا ! ان لوگوں کو معلوم نہیں ہے کہ میں جو کچھ ان لوگوں کو کہتا ہوں وہ سچ ہے اور درست ہے اور یہ جو کچھ کررہے ہیں اچھا سمجھ کر کررہے ہیں اس لئے تو ان پر ناراض نہ ہواور ان پر عذاب نہ کر بلکہ ان کو سچائی کے قبول کرنے کی توفیق دے- تکلیف کے وقت میں کیسے محبت سے بھرے ہوئے الفاظ کہے گئے ہیں- کیا ان سے بڑھ کر انسانی ہمدردی کی مثال کہیں مل سکتی ہے؟ حج کے موقع پر اہل مدینہ کا تعلیم حاصل کرنا سچ چھپا نہیں رہتا- آپ کی تعلیم کی خبریں باہر مشہور ہوئیں اور یثرب