انوارالعلوم (جلد 8) — Page 22
انوار العلوم جلد ۸ ۲۲ بھائی فتنہ انگیزوں کا راز کیونکر فاش ہوا ؟ گیا دوسرے وقت کچھ نکلا ۔ بعض الهامات ایسے ہیں جو میرے نزدیک قرائن کی وجہ سے بہاء اللہ یا کسی اور شخص کے متعلق معلوم ہوتے ہیں۔ بعض بہاء اللہ کے متعلق میرے خیال میں ہیں۔ وہ اور کسی کے متعلق نہیں۔ میرا خیال حالات موجودہ کے لحاظ سے یہ ہے کہ چونکہ مقصد خدا اور صرف خدا ہے اس لئے جو وجود خدا تعالیٰ کی طرف سے ظاہر ہونے کے مدعی ہوئے میں نے ان کو اس لئے مانا ہے کہ وہ خدا کی طرف بلاتے ہیں۔ سوال:- وہ کون سے دوست ہیں جن سے آپ کی گفتگو اس کے متعلق ہوئی ؟ جواب - غالبا شیخ عبد الرحمن صاحب مصری - حافظ مختار احمد صاحب شاه جهان پوری - مولوی محمد امین صاحب جو خود مجھ سے گفتگو کرتے رہے ہیں۔ سوال:- یہاں بہائی خیالات کے احمدی اور بھی ہیں ؟ جواب میں نہیں کہہ سکتا کہ میرے سوائے کوئی اور ہے میرا خیال ہے کہ اللہ دتہ بہائی مذہب کی طرف مائل ہے۔ ہے ۔ حافظ روشن علی صاحب سے بعض دفعہ بہائی مذہب ۔ بہائی مذہب کے متعلق گفتگو کی ہے۔ اور جن کا میلان ہے میں اس واسطے ان کا نام نہیں لیتا کہ وہ اپنے کسی فیصلے کے متعلق خود ہی بہتر سمجھ سکتے ہیں اور اس واسطے بھی نام نہیں لیتا کہ ان کو کچھ نقصان نہ پہنچے۔ بعض احکام قرآن شریف کے ایسے ہیں جو بہاء اللہ کی وحی کے ماتحت تبدیل ہو گئے ہیں۔ بعض حالات کے لحاظ سے میں بہاء اللہ کو آنحضرت اللہ سے افضل سمجھتا ہوں۔ میں پانچ اسلامی نمازوں کا پڑھنا فرض نہیں سمجھتا مگر پڑھتا ہوں کیونکہ شریعت بہاء اللہ نے اس کو جائز قرار دیا ہے۔ بہاء اللہ نے بھی ایک نماز فرض کی ہے وہ تین نمازیں روزانہ ہیں اور میں پڑھتا ہوں۔ تین سال سے میں بہائی ازم کا مطالعہ کر رہا ہوں اب جب علیگڑہ سے واپس آیا ہوں اس وقت سے موجودہ کیفیت ہے۔ یعنی بھائی ہوں۔ بھائی فرض نماز جو نہ پڑھے وہ گنہ گار ہے چونکہ حضرت خلیفہ المسیح کے متعلق مجھے یہ معلوم ہوا ہے کہ آپ نے اجازت دی ہے کہ ایک شخص کفر و اسلام کے مسئلہ میں بھی آپ سے اختلاف رکھتے ہوئے آپ کے ساتھ رہ سکتا ہے اس لئے اس سلسلہ میں اسی طرح میں بھی رہا ہوں اور میں قریب ہی ارادہ کر رہا تھا ارادہ کر رہا تھا کہ یہ باتیں حضرت خلیفۃ المسیح کی خدمت میں عرض کروں گا۔ چونکہ شریعت جدید کا ظہور ہو گیا ہے اس واسطے اسلامی روزے رمضان کے اب فرض نہیں ۔ میں نے ماہ مارچ میں بہائی ازم کے ماتحت کوئی روزے نہیں رکھے ۔ حج کعبہ کے متعلق مجھے معلوم نہیں کہ فرض ہے یا نہیں ۔ تحویل قبلہ مکہ کی طرف ہو چکی ہے ۔ میں