انوارالعلوم (جلد 8) — Page 525
انوار العلوم جلد ۸ ۵۲۵ دورہ یورپ فلاں پر وسیشن فلاں گلی سے کیوں گزرا اور فلاں شخص اپنے کھانے کے لئے گائے کا گوشت کیوں لایا۔ دو سمجھدار قوموں کا ایسی چھوٹی چھوٹی باتوں کے لئے لڑنا کیا قابل تعجب نہیں ہے؟ ہندوستان زبردست جنگی طاقت کا محتاج ہے ہندوستان ابھی مکمل سلف سور نمنٹ ان حالات کو دیکھ کر لا ز ما ماننا پڑتا ہے کہ محتا ا کے لئے تیار نہیں ہے وہ ابھی ایک ایسی قوم کی مدد کا محتاج ہے جو اول تو زبردست جنگی طاقت رکھتی ہو تا کہ اسے خشکی اور تری کے حملوں سے بچائے کیونکہ بوجہ جنگی سامانوں کی عدم موجودگی کے اور فنون جنگ سے ناواقفی کے ہندوستان ابھی اپنی حفاظت خود نہیں کر سکتا۔ دوسرے وہ قوم ہندوستان سے باہر کی ہو تا کہ مختلف اقوام کے درمیان توازن قائم رکھ سکے اور کسی قوم کو اس کے خلاف یہ شکایت پیدا نہ ہو کہ وہ ہو کہ وہ کسی کی رعایت کرتی ہے ہے اور میرے نزد نزدیک انگریزوں زیادہ اور کوئی قوم اس کے لئے مناسب نہیں ہو سکتی کیونکہ وہ ہندوستان کو جانتے ہیں اور ہندوستانی ان کو جانتے ہیں۔ رو سے یہ تصویر کا ایک رخ ہے مگر کبھی نتیجہ صحیح نہیں نکلتا جب تک کہ تصویر کے دونوں سرا رخ رخ نہ دیکھے جائیں اس لئے ہم کو ہندوستان کے حالات کا دوسرا رخ بھی دیکھنا چاہئے۔ ہندوستان میں اب مغربی تعلیم کا چرچا پھیلتا جاتا ہے وہ لوگ جو پہلے اسے گناہ سمجھ کر اس کے قریب نہیں جاتے تھے اب ضرورت سے مجبور ہو کر اس کے حصول کے لئے کوشاں ہیں۔ مغربی تعلیم کے ساتھ ہی مغرب کی آزادی اور اقتصادی ترقی اور علمی فروغ کا خوشنما منظر بھی لوگوں کی آنکھوں کے سامنے آرہا ہے۔ وہ جو کچھ کتب میں پڑھتے ہیں اس کو جب اپنے گردو پیش نہیں دیکھتے تو قدر تا ان کے دلوں کو تکلیف ہوتی ہے۔ اور جس طرح اس شخص کا حال ہوتا ہے کہ جو اپنا کام دوسروں سے کرانے کا عادی ہوتا ہے اور جب کام اس کے نزدیک خراب ہو تو بغیر اس امر پر غور کرنے کے کہ حالات کی مجبوریوں کی وجہ سے وہ کام خراب ہوا ہے وہ اس کام کے کرنے والے کو بُرا کہنے لگتا ہے۔ اسی طرح ہندوستانیوں کے دلوں میں گورنمنٹ کے خلاف جوش پیدا ہوتا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ اس کی سستی کی وجہ سے کام درست نہیں ہوتے۔ پھر جبکہ وہ مغربی قوموں کی ترقی کے ساتھ ان کے حکومتی نظام پر نظر ڈالتے ہیں تو ان کو یقین ہو جاتا ہے کہ مغرب کی ترقی کا اصل باعث اس کا نیابتی طریقہ حکومت ہے اور ان کے دلوں میں بھی ترقی کی امنگ پیدا ہوتی ہے اور وہ بھی چاہتے ہیں کہ ہمیں بھی یورپ کی قوموں کی طرح حکومت میں دخل حاصل ہو