انوارالعلوم (جلد 8) — Page 522
انوار العلوم جلد ۸ ۵۲۲ دورہ یورپ نیک نیتی کی خدمت کی روح مر جاتی ہے اور ملک کو انجام کار نقصان پہنچتا ہے۔ اس تمہید کے بعد میں سب سے پہلے ہندوستان کی ہندوستان کی جغرافیکل حالت جغرافیکل اور سوشل حالت بیان کرنا چاہتا ہوں کیونکہ بغیر اس حالت کے علم کے کوئی شخص ہندوستان کے متعلق صحیح اندازہ نہیں لگا سکتا۔ ہندوستان ایک ایسا ملک ہے جس کے مشرقی اور شمالی طرف چینی حکومت ہے اور شمال مغربی طرف افغانستان کی حکومت ہے چینی حکومت گو خود ایسی نہیں ہے کہ اس سے ہندوستان پر حملہ کی امید کی جائے مگر چینی سرحد پر ایسی ریاستیں موجود ہیں جو جنگی لوگوں کی نسل سے آباد ہیں اور اگر ہندوستان کسی وقت کمزور ہو جائے تو بعید نہیں کہ وہ ہندوستان کے بعض حصوں پر قبضہ کرنے کی کوشش کریں جس طرح کہ وہ پہلے بھی کرتی رہی ہیں۔ افغانستان ایک ایسا علاقہ ہے جہاں کے لوگوں کو یقین ہے کہ ہندوستانی ان کا مقابلہ نہیں کر سکتے اور پرانی روایات ان کے جوشوں کو قائم رکھتی ہیں۔ افغان اپنے دل سے اس بات کو نہیں نکال سکتے کہ ہمیشہ ہندوستان شمالی حملہ آوروں کے حملوں کا مقابلہ کرنے سے قاصر رہا ہے۔ پس اگر ہندوستان میں حکومت طاقتور نہ ہو تو ہندوستان ہر وقت بیرونی حملہ آوروں سے محفوظ نہیں ہے۔ ان حملوں کے علاوہ جو خشکی کی طرف سے ہو سکتے ہیں سمندر کی طرف سے بھی ہندوستان محفوظ نہیں ہے اور یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ ہندوستان میں حکومت کے کمزور ہونے پر سولھویں اور سترھویں صدی کی دست درازیوں کا زمانہ پھر نہ آجائے گا اور بعض چھوٹے چھوٹے علاقے ایک وسیع ہونے والی حکومتوں کے لئے بیچ کا کام نہ دیں گے۔ قومی حالت ہندوستان کی یہ ہے کہ ایک سرے سے دوسرے سرے تک مختلف قومی حالت قوموں کا جال پھیلا ہوا ہے۔ باہر سے آنے والی قوموں میں سے پٹھان سب سے زیادہ ہیں۔ پھر سید مغل اور قریشی ہیں ان کے علاوہ اور چھوٹی چھوٹی قو میں بھی ہیں۔ خود ہندوستان کی بہت سی قومیں ہیں برہمن راجپوت، مرہٹے جاٹ گوجر بنئے ارائیں ، کشمیری گئے زئی ان قوموں کے علاوہ شو د ریا نجس اقوام بہت سی ہیں جیسے چوہڑے، چمار گونڈ، بھیل، ناسو در دو وغیرہ۔ یہ تمام قو میں ابھی تک اپنی علیحدہ ہستی کو قائم رکھے چلی جاتی ہیں اور ان میں ایسا قومی اتحاد ہے کہ کوئی خارجی اثر ان کو مٹا نہیں سکتا۔ ہندوستان کے الیکشن اس قدر لیاقت یا اصول کی بناء پر نہیں ہوتے جس قدر کہ قومیت کی بنیاد پر ۔ جب کوئی شخص کسی لوکل یا امپیریل