انوارالعلوم (جلد 8) — Page 514
۵۱۴ عبدا لحکیم:۔قوم کی قوم تو ہجرت نہیں کرسکتی۔کانسٹیٹیوشنل (CONSTITUTIONAL) طریق پر آپ سے متفق ہوں۔حضرت:۔میں اس حد تک موافق ہوں جو لاء کے خلاف نہ ہو ورنہ انارکی پیدا ہوگی۔اور اس سے سخت نقصان ہو گا جس وقت تک یہ احساس رہے کہ لاء(LAW) کی تعمیل کرنا ہے اس وقت تک امن قائم ہے۔اور امن کے ساتھ ہم ایسے قوانین کو جو نقصان رساں ہوں تبدیل کراسکتے ہیں۔عبد الحکیم:۔اگر قانون ایمان کے خلاف ہو۔حضرت : اگر ایسی حالت پیدا ہو جائے تو ہمارا یہی ایمان ہے کہ ملک سے باہر چلے جانا چاہئے۔اگر اس کو تبدیل نہیں کراسکتے پھر نکل جانے میں اس بات کی پرواہ نہیں کرنی چاہیئے کہ کھانے کو ملے گا یا نہیں۔میں تو جماعت میں اسلام کے لئے ایک غیرت کی عملی سپرٹ ( SPRIT) پیدا کرتا ہوں۔میری بیوی کا بھائی آیا ،میں اس کے لئے شوق سے منتظر تھا۔دروازہ کھول کر اسے دیکھا کہ اس نے ٹوپی پہنی ہوئی ہے۔مجھے اس سے رنج ہوا کہ اس نے کیوں پہنی۔تین دن تک میں اس سے نہیں ملا۔جب تک کہ اس نے مجھے لکھ کر نہیں دے دیا کہ میں اسلام کے قومی کیریکٹر کا پابند رہوں گا۔میں نے فیشن کی تقلید کرنے والوں کی اپنے کل کے خطبہ جمعہ میں مثال دی ہے کہ وہ اس فیشن کے ایسے غلام ہیں جیسے ایک کُتا میم کے پیچھے پیچھے دوڑتاہے۔میں اپنی جماعت میں جو روح پیدا کررہاہوں تم اسے سمجھو تو تمہارے یہ خیالات نہ رہیں۔میری جماعت میں کوئی شخص اپنے مقدمات عدالت میں نہیں لے جاتا بلکہ شریعت کے فیصلہ کے موافق قاضیوں سے لے کراناہے۔(اس پر ایک شخص نے طنزاً کہا کہ چماروں میں بھی ایسا ہی ہے۔حضرت نے یہ سن کر فرمایا کہ) یہ اس لئے ہے کہ تم ان سے عبرت سیکھو جن کو تم چمار کہتے ہووہ اس معاملہ میں تم سے بہتر ہیں۔(سب نے متفق ہو کر کہا کہ یہ بالکل درست ہے) ایک طالب علم :۔میں نے سنا ہے کہ انڈیا آفس والے آپ کو بُلا کر پوچھتے ہیں کہ ہندوستان پر کیسے حکومت کریں۔حضرت : یہ غلط ہے کہ مجھ سے یہ پوچھا گیا۔