انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 513 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 513

انوار العلوم جلد ۸ حالمه دورہ یورپ کرتا ہے اس لئے کافر کہلاتا ہے ( حضرت صاحب نے حقیقۃ الوحی سے اس کے متعلق حوالہ جات دکھائے)۔ طالب علم:۔ کافر کی تشریح ہو گئی ہے یہ درست ہے۔ سیاسی مسائل پر گفتگو ایک طالب علم:۔ ہم کس طرح اپنے حقوق حاصل کریں۔ حضرت: ہمارا طریق یہ ہے کہ ہم قانون کے ماتحت اپنے حقوق لیتے ہیں۔ اگر نہ لے سکیں اور مذہبی مداخلت ہو تو پھر اس ملک کو چھوڑ دینا چاہیے۔ یہ آسان طریق ہے۔ ملک میں رہ کر قانون شکنیں کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ اور جب تک لاء (LAW) ہے اس کا احترام کرنا چاہیے ۔ یہ نکہ اگر ایک وفعہ قانون شکنی کی عادت ڈال دو گے تو پھر قانون کا احترام اور اطاعت اُٹھ جائے گی۔ جب وہ قانون درست نہ ہو تو امن سے اس کے تبدیل کرانے کی کوشش کرو۔ اگر کامیابی نہ ہو تو اس سے باہر چلے جاؤ۔ طالب علم:۔ ہاں یہی درست طریق ہے حضرت:۔ ہمارے خلاف دو قسم کا پری کیوشن (PERSECUTION) ہے- اول مسلمان ہمارے مخالف ہیں۔ دوم ہندو مسلمان کی مخالفت کی وجہ سے بحیثیت مسلمان ہماری مخالفت کرتے ہیں۔ اب آپ ہی بتائیں کہ ہم کیا طریق اختیار کریں۔ میں نے ہرمہ سانے ہر موقع پر مسلمانوں کو صحیح مشورہ دیا ہے۔ اور مسلمانوں کے مفاد میں ان سے کو آپریٹ (CO-OPERATE) کیا ہے مگر وہ خود فائدہ نہ اٹھائیں تو اس میں میرا کیا قصور ہے۔ ابھی مسلم لیگ کے موقع پر جب انہوں نے مجھے دعوت دی تو میں نے اپنے خیالات کا اظہار تحریری طور پر کر دیا۔ طالب علم:۔ ہجرت کی جو تحریک ہوئی تھی اس کے متعلق آپ کیا کہتے ہیں؟ حضرت:۔ میں نے ہجرت کے موقع پر گورنمنٹ کو لکھا تھا کہ وہ اس میں کسی قسم کی مداخلت نہ کرے۔ اگر وہ روکے گی تو پھر وہ ملک میں رہ کر بھی جنگ کر سکتے ہیں۔ مگر جو لوگ ہجرت کر کے گئے نہ تو وہ کسی اصول اور قانون کو مد نظر رکھ کر گئے اور نہ کسی کی سیادت میں گئے۔ ایک بے اصول جوش کے ماتحت یہ کام کیا گیا جس کا نقصان بہت زیادہ ہوا۔ سرحد والے اپنی جائدادیں نہایت ہی نقصان کے ساتھ بیچ کر چلے گئے اور آگے کوئی خبر گیراں نہ ہوا۔ جس کا نتیجہ بے چینی ہوا اور تکالیف میں مبتلا ہو کر ناکام واپس ہوئے۔ اور اس تحریک کی ناکامی نے اس کو بے اثر کر دیا ۔ اگر یہ تحریک صحیح اصول پر آرگنائزڈ (ORGANIZED) ہوتی تو یقیناً مؤثر ہوتی۔