انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 507 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 507

t انوار العلوم جلد ۸ ۵۰۷ دورہ یورپ کیا ایڈوائز (ADVISE) کریں گے کیا مشورہ دیں گے۔ پہلا طالب علم: جب وہ لوگ چاہیں گے کہ ہم یہ حکومت نہیں چاہتے تو انکو چاہیے کہ آزاد کر دیں اور ان پر سے اپنی حکومت اٹھالیں۔ اٹھا حضرت: تواب یہ اصل قائم ہوا کہ جب کوئی قوم اپنی غیر قوم حکمران کو کہے کہ ہمارا علاقہ خالی کردو تو خالی کر دینا چاہیے ۔ اب ہم واقعات سے دیکھتے ہیں کہ ہمارے آباء واجداد کا کیا عمل ہے؟ انہوں نے تو کسی علاقہ کو نہیں چھوڑا۔ اس اصل کو قائم کر کے اب آگے چلائیے۔ اس موقع پر طالب علم مذکور نے تو کوئی جواب نہ دیا۔ اور پھر پروفیسر عبدالحکیم صاحب نے دخل دیا) عبدالحکیم :۔ جنرل تھیوری یہ ہے کہ کسی قوم کا حق نہیں کہ دوسری قوم پر اپنی اغراض کے لئے حکومت کرے خواہ وہ قوم کوئی ہی ہو ہاں اس کی اصلاح کے لئے حکومت کرے۔ حضرت:۔ اُس قوم کے ارادہ اور مرضی کے موافق یا اس کے خلاف۔ عبدالحکیم :۔ اس کا فیصلہ مشکل ہے حکومت کے افعال کو دیکھ کر کہہ سکتے ہیں کہ یہ فعل جائز ہے یا نا جائز حضرت:۔ جب فیصلہ مشکل ہے تو جائز ناجائز کا فیصلہ کون کرے گا۔ جس حکومت کو کہا جاوے کہ ناجائز ہے اس کا ہر فعل نا جائز ہوگا۔ کیا ہندوستانی حکومت کے قابل ہیں۔ عبدالحکیم :۔ اصل بات یہ ہے کہ کیا آپ ہندوستانیوں کو حکومت کے قابل سمجھتے ہیں؟ حضرت:۔ مجھ سے جو سوال ہوا ہے میں نے اس کا جواب بارہا دیا ہے۔ گل کے خطبہ جمعہ میں بھی اس سوال کا جواب آگیا ہے۔ میں نے ہمیشہ کہا ہے اور انگریزوں کو کہا ہے کہ یہ خیال غلط ہے کہ ہندوستانی حکومت کے قابل نہیں۔ میں نے اس سوال پر غور کیا ہے اور میں اس کے دلائل رکھتا ہوں کہ ہندوستانی ہندوستانیوں پر حکومت کر سکتے ہیں۔ ہاں اگر یہ سوال ہو کہ ہندوستانی فرانس یا انگلستان پر حکومت کر سکتے ہیں ؟ تو ہم کہیں گے ہر گز نہیں۔ لیکن یہ سوال ہی غلط ہے کہ ہندوستانی ہندوستان پر حکومت کر سکتے ہیں یا نہیں۔ ہر ایک ملک کے باشندے اپنے ملک پر حکومت کر سکتے ہیں۔ کیا افغان افغانستان پر حکومت نہیں کرتے؟ کیا وہ ہندوستانیوں سے زیادہ تعلیم یافتہ ہیں؟ آپ نے خوشامد پر بہت زور دیا ہے (خلیفہ عبدالحکیم نے اپنی تقریر میں یہ بھی کہہ دیا تھا کہ گورنمنٹ کی خوشامد کی جاتی ہے۔ اس کی طرف اشارہ ہے۔ عرفانی) کسی وجہ سے آپ کا یہ خیال