انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 18 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 18

انوار العلوم جلد ۸ ۱۸ بهائی فتنه انگیزوں کا راز کیونکر فاش ہوا ؟ بہائی مذہب یہ بات سمجھ سے بالا ہے کہ ایک شخص ایک لمبے عرصہ سے ۔ جُرم ثابت ہے اختیار کر چکا ہے لیکن وہ اس کا ہ اس کا اعلان نہیں کرتا اور جس انتظام میں وہ منسلک ہونا ظاہر کرتا ہے اس کے امام یا کسی ذمہ دار شخص کے سامنے اپنے نئے عقائد کا اظہار نہیں کرتا بلکہ خفیہ خفیہ اور اخفاء کی تاکید کرتے اور اقرار لیتے ہوئے ناواقف شخصوں کے سامنے اپنے خیالات کو اس طرح ظاہر کرتا ہے کہ گویا وہ ان خیالات کی تبلیغ و تلقین کرنا چاہتا ہے پھر وہ مدعی بنتا ہے کہ اس کی نیت صالح ہے۔ جس نتیجہ پر ہم پہنچے ہیں اس کی تائید اس بات ۔ بات سے بھی ہوتی ہے کہ جب مولوی محفوظ الحق صاحب کو یہ پتہ لگا کہ حکیم ابو طاہر صاحب جن کو وہ گاہے گاہے اپنے عقائد کی تلقین کرتے رہتے تھے اب واپس وطن کو جانے والے ہیں تو انہوں نے خاص طور پر ان سے کہہ کر الگ بات کرنے کے لئے وقت لیا ۔ تین دن کے لئے تین تین گھنٹے وقت مانگا اور پھر ان کو الگ لے جا کر مخفی طور پر سلسلہ احمدیہ سے بدظن کرنے اور بہائی عقائد کو منوانے کی کوشش کرتے رہے اور ساتھ ہی ان کو یہ تاکید بھی کر دی کہ کسی سے اس امر کا ذکر نہ کریں ۔ گویا کہ ان کے لئے ازالہ شکوک کا دروازہ بھی بند کرنا چاہا۔ اسی طرح اور شہادتوں اور قرائن سے ثابت ہے که مولوی محفوظ الحق صاحب اور ان کے ساتھی خطر ناک اخفاء مجرمانہ کے مرتکب ہوئے ہیں اور سازش اور فتنہ کا رنگ اختیار کیا ہے ۔ جو دو باتیں ہم نے دس الزامات کا خلاصہ نکالا ہے۔ ان کو مد نظر رکھتے ہوئے ۔ اللہ دتہ کا جرم ما سر اللہ دتہ عبد الصمد ملزم نمبر ۲ کے متعلق ہم مندرجہ ذیل نتیجہ پر پہنے ہیں کہ وہ اپنے آپ کو بہائی کہلانے سے انکاری ہے مگر اس کے مجموعی بیان سے اور اس کی ان کارروائیوں سے جو وہ بہائی مذہب کی تائید میں وقتا فوقتا کرتا رہا ہے اور گواہوں کی شہادت سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ دراصل وہ بہائی مذہب کا مصدق ہے اور بہائی مذہب کے لئے اس کی تبلیغی کوششیں علمی صاحب کی کوششوں سے بھی ظاہر طور پر زیادہ نمایاں ہیں۔ وہ شریعت جدیدہ کا مجوز ہے اور دور اسلام کو ختم سمجھتا ہے اور حضرت مسیح موعود کو اپنی ایک من گھڑت اصطلاح کی رُو سے کسی اصل مسیح موعود کا ظل مانتا ہے ۔ اور وہ نوجوان ناواقف احمد یوں بلکہ بالکل جاہل ناخواندہ دیہاتیوں تک اپنا اثر پھیلانے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ اور اپنے رفیق مولوی علمی صاحب کی طرح یہ بھی اخفائے مجرمانہ اور سازش اور فتنہ کا مرتکب ہوا ہے ۔