انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 494 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 494

دارالعلوم جلد ۸ ۴۹۴ دورہ یو رپ کی مخالفت بھی ہوئی مگر آج واقعات نے ثابت کر دیا ہے کہ جب تک دل ایک نہ ہوں کچھ نہیں ہو گا۔پہلے ضروری ہے کہ ایسے اصول طے کر لئے جائیں کہ ہندو مسلمانوں میں حقیقی اتحاد ہو جائے۔میں یہ بھی بتانا چاہتا ہوں کہ میں مانگنے کا قائل نہیں۔میں چار پانچ برس کی عمر سے اپنے واقعات کو یاد رکھتا ہوں۔اور میں یہ کہتا ہوں کہ میں نے اپنے باپ سے بھی کچھ نہیں مانگا تھاپس میں مانگنے کا حامی نہیں ہوں- اگر ہم اتحاد پیدا کر لیں اور وہ اتحاداخلاص کے ساتھ ہو تو میں دعوی سے کہتا ہوں کہ سلف گورنمنٹ خود مل جائے گی مانگنے کی ضرورت نہ ہوگی۔مگر اس اتحاد کے لئے کوشش نہیں کی گئی۔ہندو مسلمانوں کے اتحاد کو صحیح اصول پر قائم کرنے کے لئے کبھی کوشش نہیں ہوئی اور جس نے کی اس کی مخالفت کی گئی۔جن تین بیرسٹروں کا میں نے ذکر کیا ہے ان میں سے ایک ہندو کا میاب بیرسٹر نے جو لاہور میں شاید کام کرتا ہے اس وقت اپنے مسلمان دوست سے کہا تھا کہ اگر میرے لڑکی ہوئی تو تمہارے لڑکے کو دوں گا اور ایسا ہی مسلمان کہتا تھا۔مگر اب یہ حالت ہے کہ لاہور والے کسی سے ملتے نہیں اور دوسرے دوجو ملتان میں غالباً کام کرتے ہیں وہ اس سوسائٹی کے ممبر ہیں جو تفرقہ ڈلواتی ہے۔غرض آپ نے جن خیالات کا اظہار کیا ہے میں ان کو قدر کی نظر سے دیکھتا ہوں۔پس آپ اس کے مطابق عمل کریں اور ان نیک خواہشات کو رکھتے ہوئے اگر غلط راستے پر بھی چلیں گے تو آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو فائدہ ہو گا بشرطیکہ اخلاص کے ساتھ کام کرو گے۔یہ کہہ کر میں اس دعا پر ختم کرتا ہوں کہ خدا تعالی آپ کو بھی ان کوششوں اور جذبات اور خواہشوں کو کامیاب بنانے کی تو فیق دے اور مجھ کو اور میرے متبعین کو بھی۔(الفضل۲۶-اکتوبر ۱۹۲۴ء)