انوارالعلوم (جلد 8) — Page 17
انوار العلوم جلد ۸ 16 بھائی فتنہ انگیزوں کا راز کیونکر فاش ہوا ؟ (ز) بعض احکام قرآن شریف کے ایسے ہیں جو بہاء اللہ کی وحی کے ماتحت تبدیل ہو گئے ہیں ۔ (ص) بعض حالات کے لحاظ سے میں بہاء اللہ کو آنحضرت ا سے افضل سمجھتا ہوں۔ (ش) میں پانچ اسلامی نمازوں کا پڑھنا فرض نہیں سمجھتا۔ (ص) میں روزانہ تین بھائی نمازیں پڑھتا ہوں ۔ (ض) بہائی فرض نماز جو نہ پڑھے وہ گنہگار ہے ۔ ا (ق) اسلامی روزے رمضان کے اب فرض نہیں رہے (ک) تحویل قبلہ اب علہ کی طرف ہو چکی ہے ۔ (گ) میں لا مَهْدِيَّ إِلَّا عِيشنى ل کا مصداق بہاء اللہ کو مانتا ہوں۔ میرے نزدیک مہدی اور مسیح دو شخص ہیں۔ ۲ (ف) نزول ابن مریم کی حدیث بہاء اللہ کے متعلق ہے ۔ ضمنا مرزا صاحب کے متعلق ۔ (ن) لَوْ كَانَ الْإِيْمَانُ مُعَلَّقَاً " کی حدیث صاف طور پر بہاء اللہ کے متعلق ہے۔ (م) میں کبھی نماز علہ کی طرف منہ کر کے بھی پڑھتا ہوں ۔ جب مساجد میں پڑھتا ہوں تو مکہ کی طرف منہ کر کے پڑھتا ہوں۔ بیانات مندرجہ بالا سے یہ بات أَظْهَرُ مِنَ الشَّمس ہے ۔ کہ مولوی صاحب موصوف نہ صرف مخصوص عقائد احمد یہ سے بلکہ عام مسلمہ عقائد اسلامیہ سے منحرف ہیں جس کا وہ کھلم کھلا اقرار کرتے ہیں۔ گو وہ ساتھ ساتھ اس بات کا بھی اقرار کرتے ہیں کہ میں مرزا صاحب اور انحضرت المال کو راست باز سمجھتا ہوں۔ امر دوم کے متعلق جیسا اوپر بھی لکھا جا چکا ہے خفیہ کار روائی اور اس کی بیہودہ وجہ وہ وجہ مولوی محفوظ الحق صاحب خود تو کھلم کھلا اقراری نہیں ہیں مگر اخفاء کو تسلیم کرتے ہیں لیکن جو غرض وہ اس اخفاء کی بیان کرتے ہیں وہ نہ صوف نا قابل تسلیم بلکہ مضحکہ انگیز ہے۔ یعنی یہ کہ احمدیوں کو تکلیف نہ ہو ۔ بات یہ ہے جیسا کہ شہادت سے پایہ ثبوت کو پہنچ گیا ہے انہوں نے مجرمانہ اختفاء کیا ہے اور اس بات کی کوشش میں رہے ہیں کہ خفیہ خفیہ اپنے بھائی عقائد کی زہر پھیلائیں تاکہ کھلم کھلا اظہار سے قبل ایک جماعت قائم ہو جائے ۔ اور زیادہ قابل افسوس یہ جرم کیا گیا ہے کہ انہوں نے اپنی مخفی تبلیغ کے لئے ان لوگوں کو چنا کہ جن کے متعلق وہ کسی وجہ سے یہ سمجھتے تھے کہ ان پر میں اپنا اثر ڈال سکوں گا۔