انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 484 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 484

۴۸۴ دوره یو رپ محسوس کیا اور میں یقین رکھتا ہوں کہ ہر اک جو اس سے تعلق پیدا کرے گا اور اس کی محبت کو دل میں جگہ دے گا یہی باتیں دیکھے گا جو میں نے دیکھیں بلکہ شاید اپنی محبت کے مطابق مجھ سے بھی بڑھ کر۔خدا کے کلام کے شائق اے وہ لوگو! جو اپنے بیٹوں یاوالدین یا خاوندوں یا بیویوں یا دوستوں کے پیغام سننے کے لئے شوق سے لپکتے ہو کیا خدا تعالیٰ کے پیغام کی طرف سے منہ موڑ لو گے اور کیا خدا تعالیٰ پر ایمان لانے کا دعویٰ کرتے ہوئے پھر بھی اس کی بات کی طر ف توجہ نہ کروگے- کیا پہلے نبیوں کے تجربہ کو بُھلا دوگے اور ان سے بالکل فائدہ نہ اُٹھاؤ گے- ایسانہ ہو کہ تمہارا نفس تم کو دھوکا دے اور تم سے کہے کہ دیکھو اس شخص کو جو خدا کا پیامبر بنتا ہے، دیکھو اس کو جو مشرق کے غیر متمدن علاقوں کا رہنے والا ہے اور جس کے پاس کوئی طاقت نہیں اور جو ایک غیر ملکی حکومت کے ماتحت رہتا تھا اس کو یہ رتبہ کہاں سے نصیب ہوا اور اس کو خدا نے کیوں چنا- یاد رکھو کہ خدا تعالیٰ کے کام نرالے ہیں اور اس کی قدرتیں عجیب- وہ ہمیشہ اسی پتھر کو چنا کرتا ہے جسے معمار ردّ کرکے پھینک دیا کرتے ہیں اور اسی کو کونے کا پتھر بنا کر اسے ایسی طاقت دیتا ہے کہ جس پر گرتا ہے وہ بھی چکنا چُور ہوجاتا ہے اور جو اس پر گرتا ہے وہ بھی چکناچُور ہوجاتا ہے- وہ کون سا نبی آیا ہے جسے لوگوں نے ایسی باتیں نہیں کہیں؟ اور وہ کونسا نبی آیا جو باوجود ذلیل سمجھا جانے کے آخر کامیاب نہیں ہوا- پس اے بھائیو! ان باتوں کو دیکھو جو وہ کہتا ہے اور اس پیغام کی طرف کان دھرو جو وہ لایا ہے اور پھر ان نصرتوں کا مشاہدہ کرو جو خدا کی طرف سے اسے حاصل ہوئیں اور اس کے قبول کرنے کے لئے بڑھو کیونکہ اسی میں برکت ہے۔رکاوٹوں کو دُور کرو ایسا نہ ہو کہ تمہاری رسمیں اور تمہاری عادتیں تمہارے رستہ میں روک بنیں- رسمیں روز بدلتی رہتی ہیں اور عادتیں ہمیشہ تبدیل ہوتی رہتی ہیں- پس کیا خدا کے لئے رسموں اور عادتوں کو نہیں چھوڑوگے؟ لوگ کہتے ہیں کہ اسلام کے احکام سخت ہیں اور عمل میں مشکل مگر کیا وہ خیال کرتے ہیں خدا تعالیٰ کی یگانگت یونہی منہ کی باتوں سے مل جائیں گی؟ دیکھنے والی بات یہ ہے کہ کیا وہ خلاف عقل ہیں ؟ کیا وہ فساد پھیلانے والی ہیں- کیا وہ سچی طہارت پیدا نہیں کرتے؟ اگر ایسا نہیں تو کیا وہ محض اس لئے کہ اسلام کے بعض احکام ان کی