انوارالعلوم (جلد 8) — Page 481
انوار العلوم جلدے ۴۸۱ دورہ یورپ روحیں تو ہمیں ترقی کی طرف لے جانے کی فکر میں ہیں مگر وہ ہستی جو سب روحوں کی خالق ہے اور جس نے ہمیں اس لئے پیدا کیا ہے کہ ہم اس کا قرب حاصل کریں ہماری ترقی کی کوئی فکر نہیں کرتی اور ہمارے لئے اپنے سے ملنے کا کوئی راستہ نہیں کھولتی۔ ہرگز نہیں۔ اگر کسی کو ہماری ترقی کی فکر ہو سکتی ہے اگر کسی کو ہم سے ملاقات کا خیال ہو سکتا ہے تو وہ خدا تعالیٰ کی ذات ہے۔ بیشک خدا تعالٰی سے یگانگت کے لئے شرطیں ہونی چاہئیں بے شک اس سے وصال کے لئے بندہ میں ایک خاص قسم کی پاکیزگی کا موجود ہونا ضروری ہے بے شک اس کا دروازہ کھلنے سے پہلے ہماری طرف سے دستک ملنی چاہئے مگر بہر حال اس کا دروازہ کھلنے کا امکان ہر وقت موجود رہنا چاہئے۔ مسیح موعود علیہ السلام خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ پیغام لایا ہے کہ یہ امکان موجود ہے اگر تم چاہو اور میری بتائی ہوئی ہدایت کے مطابق عمل کرو تو آج بھی تم میرے کلام کو اسی طرح سن سکتے ہو جس طرح کہ پہلے لوگ سن سکتے تھے اور آج بھی تمہارے لئے میں اپنی طاقتوں کو اسی طرح ظاہر کر سکتا ہوں جس طرح پہلے لوگوں کے لئے کیا کرتا تھا۔ خدا یہ پیغام کیسا امید افزا ہے کس طرح بندے اور خدا کے درمیان ا اور بندے میں صلح صلح کرانے والا ہے۔ مجھے اس کے متعلق کچھ کہنے کی ضرورت نہیں مگر میں اس بات کے کے بغیر نہیں رہ سکتا کہ اس پیغام کے ذریعہ سے مسیح موعود علیہ السلام نے خدا تعالیٰ اور بندے کے درمیان صلح کرادی ہے اور ثابت کر دیا ہے کہ آجکل کے لوگ خدا تعالیٰ سے سوتیلے بیٹے کا تعلق نہیں رکھتے بلکہ وہ ان سے ایسی ہی محبت کرتا ہے جیسا کہ سگے بیٹے سے کی جاتی ہے۔ حضرت مسیح موعود کا دعوی کوئی معمولی دعوی نہیں۔ آپ کا حضرت مسیح موعود کا دعوای دعوی ہی آپ کی صداقت کی دلیل ہے کیونکہ یہ کہنا تو آسان ہے کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے آیا ہوں اور میں ہر شخص کو خدا تعالیٰ تک پہنچا سکتا ہوں۔ نہایت مشکل ہے۔ اول الذکر ایک ایسا دعوی ہے کہ جس کی صحت اور عدم صحت دلیلوں سے تعلق رکھتی ہے اور دلیلوں میں بہت کچھ اُتار چڑھاؤ کئے جاسکتے ہیں مگر ثانی الذکر وہ دعوی ہے جس کا تعلق مشاہدہ سے ہے اور مشاہدہ کرا دینا آسان کام نہیں۔ مگر مسیح موعود علیہ السلام نے نہ صرف یہ دعوی کیا بلکہ ہزاروں آدمیوں نے آپ کی تعلیم پر چل کر خدا تعالیٰ کے نشانات کو دیکھ لیا اور اس کے کلام کو