انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 479 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 479

انوار العلوم جلدے ۴۷۹ دورہ یورپ کر سکتے ہیں۔ خدا تعالی اس طرح نہیں ملتا کہ ہم دولت اور مال اور تعلقات کو چھوڑ دیں بلکہ اس طرح ملتا ہے کہ ہم ہر قسم کے حالات میں اسی سے تعلق مضبوط رکھیں خواہ خوشی کا موقع ہو خواہ رنج کا، خواہ ترقی کی حالت ہو خواہ تنزل کی۔ خواہ نفع حاصل ہو خواہ نقصان ہو جائے ہر حالت میں ہم اس کی طرف توجہ رکھیں۔ اور اس کی رحمت سے مایوس نہ ہوں اور اس کی محبت کو بڑھائیں اور اس کے حضور دعائیں کرنے میں کو تاہی نہ کریں۔ بہادر وہ نہیں ہوتا جو لڑائی سے بھاگ جائے بلکہ بہاد روہ ہے جو میدان جنگ میں ثابت قدم رہے۔ چھٹی بات یہ نکلتی ہے کہ نیکی اس کا نام نہیں کہ ہم نیک اعمال کریں نیکی اور بدی کیا ہے؟ اور نہ بدی اسکا نام ہے کہ ہم بد اعمال کریں بلکہ نیکی اور بدی دل کی نیک اور بد حالت کا نام ہے۔ اور نیک اعمال اور بد اعمال در حقیقت نیکی اور بدی کے آثار ہیں۔ ہمارا یہ کام نہیں ہونا چاہئے کہ ہم صرف علامات اور آثار کو نیکی اور بدی سمجھ لیں بلکہ ہمارا فرض یہ ہے کہ ہم بدی کے میلان کو مٹائیں اور نیکی کا میلان پیدا کریں کیونکہ قلب کی صفائی اصل صفائی ہے اور جوارح کی صفائی اس کے تابع ہے۔ ساتویں بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ کوئی علمی یا ذہنی ترقی انسان کو عمل سے آزاد گناہ زہر ہے نہیں کر سکتی خدا تعالی کا قانون چٹی نہیں ہے کہ ہم اس سے کسی وقت بھی آزاد ہو سکیں۔ وہ طبعی قانون کی طرح سبب اور نتیجہ کے اصول پر مبنی ہے اس پر عمل کئے بغیر ہم روحانی ترقی نہیں کر سکتے۔ گناہ اس لئے گناہ نہیں کہ خدا نے اس سے منع کیا ہے بلکہ خدا نے اس سے اس لئے روکا ہے کہ وہ ایک روحانی زہر ہے پس شریعت انسان کو گنہگار نہیں بناتی بلکہ گناہ سے بچنے میں مدد دیتی ہے۔ جس کو پہلے سے خبر دیدی جائے وہ پہلے سے مقابلہ کے لئے تیار ہو جاتا ہے نہ کہ خبردار کئے جانے سے انسان گڑھے میں گر جاتا ہے۔ حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں گناہ ایک زہر کی طرح ہے جس طرح زہر سے اس لئے روکا جاتا ہے کہ وہ معجزہ ہے اسی طرح گناہ سے روکا گیا ہے۔ زہر ڈاکٹر کے منع کرنے کی وجہ سے مملک نہیں بنتا اسی طرح گناہ خدا تعالیٰ کے منع کرنے کی وجہ سے مہلک نہیں بنتا۔ آٹھویں بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ انسان کو خدا تعالی سے بنی نوع انسان سے ہمدردی ہی تعلق نہیں مضبوط کرنا چاہئے بلکہ بنی نوع انسان سے بھی اپنے تعلقات کو مضبوط کرنا چاہئیے اور ایسے کاموں سے بچنا چاہئے جو فساد اور جھگڑے کا موجب