انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 478 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 478

انوار العلوم جلدے ۲۷۸ دورہ یورپ اپنے بندوں سے کلام کرنا محبت کی ایک علامت ہے اور وہ اپنی محبت کا دروازہ کبھی بھی بند نہیں کرتا۔ اگر انسان کی پیدائش کی غرض یہ ہے کہ انسان خدا تعالیٰ کو پالے اور اس کی رضا حاصل کرلے تو پھر یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ ملنے کا دروازہ بند کر دیا جائے۔ یہ کہنا کافی نہیں ہو سکتا کہ انسان مرنے کے بعد خدا کو مل جائے گا کیونکہ اگر دنیا میں صرف ایک ہی مذہب اور ایک ہی خیال ہو تا تب تو یہ جواب کچھ تسلی دے بھی سکتا تھا مگر دنیا میں سینکڑوں بلکہ ہزاروں مذہب ہیں اور سب اس امر کے مدعی ہیں کہ ان پر چل کر انسان خدا تعالیٰ سے مل سکتا ہے۔ اگر خدا کے ملنے کا علم مرنے کے بعد ہوتا ہے تو اس دنیا میں جو دار العمل ہے انسان کے پاس سچائی دکھانے کا کونسا موقع رہا؟ اور آخرت میں سچائی کے معلوم ہونے کا کیا فائدہ ؟ وہاں سے انسان دوبارہ تو آنہیں سکتا کہ اپنی اصلاح کرے پس وہاں کا علم نفع بخش نہیں ہو سکتا۔ پس ضروری ہے کہ اس دنیا میں خدا تعالیٰ کی رضا کے معلوم ہو جانے کا کوئی یقینی ذریعہ موجود ہو اور وہ ذریعہ خدا تعالیٰ کا کلام اور اس کی صفات کی جلوہ گری ہے۔ چنانچہ آپ کا دعوی تھا کہ یہ باتیں اسی طرح جس طرح پہلے غیوں کو حاصل تھیں مجھے حاصل ہیں اور مجھے اللہ تعالیٰ نے اس لئے دنیا میں بھیجا ہے کہ میں دنیا کو اس یقینی ایمان کا پتہ دوں جس کے بغیر انسان گناہ سے نہیں بچ سکتا اور لوگوں کے دلوں میں ایسی کامل محبت پیدا کروں جس کے بغیر انسان کوئی قربانی نہیں کر سکتا۔ چوتھی بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ نبی بھی دوسرے هر انسان روحانی ترقی کر سکتا ہے انسانوں کی طرح ایک انسان ہوتا ہے اس کے وجود کو ایک عام طبیعی قانون سے بالا کوئی کرشمہ نہیں سمجھنا چاہئے۔ خدا تعالیٰ نے سب انسانوں کو یکساں طاقتیں دی ہیں اور ہر انسان کی ترقی کے لئے دروازہ کھلا رکھا ہے۔ جو بھی خدا تعالیٰ کے لئے کوشش کرے اعلیٰ ترقیات کو حاصل کر سکتا ہے اور معرفت کے دروازے اس کے لئے کھولے جاسکتے ہیں۔ پس کسی انسان کو اپنی پوشیدہ طاقتوں کو حقیر نہیں سمجھنا چاہئے بلکہ ان کو استعمال کر کے روحانی ترقیات کے حصول کی کوشش کرنی چاہئے اور خدا تعالی سے براہ راست تعلق پیدا کرنے اور اس سے کامل یگانگت پانے کی جد وجہد میں کو تاہی نہیں کرنی چاہئے۔ پانچویں بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ مذہب کی غرض یہ نہیں کہ وہ ہم کو دنیا سے مذہب کا کام علیحدہ کر دے اور خدا تعالی سے ملنے کی یہ شرط نہیں کہ ہم دنیا سے قطع تعلق کر لیں بلکہ مذہب کا کام یہ بتانا ہے کہ ہم کس طرح دنیا میں رہ کر پھر خدا تعالیٰ سے کامل تعلق پیدا