انوارالعلوم (جلد 8) — Page 477
۴۷۷ دوره یو رپ یہ وہ پیغام ہے جو اس زمانہ کا پیغامبر لایاہے اور اس پر غور کرنے سے مندرجہ ذیل امور ہمیں معلوم ہوتے ہیں۔خدا کی کامل توحید کا اعتقاد یہ کہ خدا تعالیٰ ہمیں اپنی کامل توجہ کی طرف بلاتا ہے اس طرح نہیں کہ لوگ کہیں کہ وہ ایک خدا ہے اس طرح تو پہلے بھی بہت سے لوگ کہتے ہیں بلکہ اس طرح کہ ہمارے ہر اک کام اور خیال پر خدا کی توحید کی حکومت ہو- ہم اپنا تو کل صرف خدا تعالیٰ پر رکھیں- ہم اسباب کو استعمال کریں مگرساتھ ہی یقین رکھیں کہ تمام نتائج اﷲتعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں- کسی چیز کی محبت خدا تعالیٰ کی محبت پر غالب نہ ہو، نہ وطن کی نہ مال کی نہ رشتہ داروں کی نہ اپنی خواہشات اور لذتوں کی- نہ کسی چیز کی نفرت خدا تعالیٰ کی محبت کے تقاضوں پر غالب ہو- ہم کسی چیز کی نفرت کی وجہ سے خدا تعالیٰ کے احکام کو نظر انداز نہ کردیں- غرض ہمارا ہر اک عمل خدا تعالیٰ کے لیے ہوجائے اور اس کے سوا ہمارا کوئی مقصد نہ رہے- یہی وہ توحید ہے جو خدا تعالیٰ ہم سے چاہتا ہے اور یہی وہ توحید ہے جو دنیا کو کوئی فائدہ پہنچا سکتی ہے کیونکہ یہ صرف پتھروں کے بتوں سے ہی ہمیں نجات نہیں دلاتی بلکہ خواہشات اور نفرت کے بتوں سے بھی ہم کو نجات دلاتی ہے اور دنیا میں بھی امن قائم کردیتی ہے۔نجات کا واحد ذریعہ قرآن ہے دوسرا ضروری امر جو اس پیغام میں بیان ہوا ہے وہ یہ ہے کہ بنی نوع انسان کی نجات کا واحد ذریعہ قرآن کریم کا بتایا ہوا قانون ہے- اس میں ہر اک ضروری امر کو جو روحانیت اور اخلاق سے تعلق رکھتا ہے- بیان کردیا گیا ہے- وہی ایک تعلیم ہے جس پر عمل کرکے انسان خدا کی رضا کو حاصل کرسکتا ہے- پس دنیا کو اپنی مشکلات کے حل کرنے کے لئے اس کی طرف توجہ کرنی چاہیے۔خدا کا پیغام بند نہیں تیسرا ضروری امر جو اس پیغام میں بیان ہوا ہے یہ ہے کہ ایک مکمل قانون کے بیان ہوجانے کے یہ معنے نہیں کہ خدا کا پیغام آنا آئندہ کے لئے بند ہوجائے- خدا کا پیغام صرف شریعت کے قانون پر مشتمل نہیں ہوتا بلکہ بعض دفعہ وہ صرف لوگوں کو خدا تعالیٰ کی طرف بلانے کے لئے آتا ہے- خدا تعالیٰ کا یہی کام نہیں کہ وپ شریعت کے احکام بیان کرے بلکہ وہ فرماتا ہے کہ میں جب کبھی بھی لوگ مجھ سے دور ہوجائیں ان کو اپنی طرف بلاتا ہوں- خدا کا