انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 470 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 470

۴۷۰ دوره یو رپ بسم الله الرحمن الرحيم نحمدہ و نصلی على رسولہ الكريم پیغام آسمانی (فرموده ۱۴ستمبر ۱۹۲۴ء بمقام پورٹ سمتھ (انگلینڈ)بوقت پونے سات بجے شام) جناب صد رجلسہ! بہنو اور بھائیو! السلام عليكم ٍ ’’میں تم سے کہتا ہوں کہ آدمیوں کا ہر گناہ اور کفر تو معاف کیا جائے گا مگر جو کفر روح کے حق میں ہو وہ معاف نہ کیا جائے گا۔۔۔اور جو کو ئی روح القدس کے بر خلاف کوئی بات کہے گا وہ اسے معاف نہ کی جائے گی۔نہ اس عالم میں نہآنے والے ہیں۔۲۱؎ ان الفاظ میں خدا تعالیٰ کے ایک مقدس نبی نے ان لوگوں کو جو ایک آسمانی پیغام کا انکار کر رہے تھے آج سے انیس سو سال پہلے مخاطب کیا تھا اور ان الفاظ کا زور اور طاقت آج بھی ایسا ہی قائم ہے- روح القدس کیا ہے؟ ان تمام روایات کو اگر الگ کر دیا جائے جو قوت واہمہ نے روح القدس کے لفظ کے گرد جمع کردی ہیں تو روح القدس وہ فرشتہ ہے جو خدا تعالیٰ کا پیغام حضرت مسیح کے پاس لایا تھا اور حضرت مسیح علیہ السلام کی مراد مذکورہ بالا الفاظ سے سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ ہر قسم کا گناہ اور کفر انسان کو بخشا جائے گا مگر وہ کفر اور گناہ جو خدا کے کلام کے خلاف ہوگا نہیں بخشا جائے گا- ابن آدم یعنی مسیح کی ذات کے خلاف اگر کوئی شخص کہے گا تو اس کی معافی کی امید ہے مگر جو شخص اس پیغام کے خلاف کچھ کہے گا جو ابن آدم لایا ہے وہ اس دنیا میں بھی سزا پائے گا اور اگلے جہان میں بھی۔خدا کے کلام کی خلاف ورزی کا نتیجہ یہ فقرے ایک زبردست صداقت اپنے اندر رکھتے ہیں- ایسی صداقت جس کے اندر ایک شائبہ بھی غلطی کا نہیں- اگر ذرا بھی غور کر کے دیکھا جائے تو عقل اس نتیجہ پر پہنچنے پر مجبور ہوتی ہے کہ