انوارالعلوم (جلد 8) — Page 468
انوار العلوم جلد ۸ VhN دورہ یورپ جاری رکھنے کے لئے کرنی چاہئیے جس کی خاطر مولوی نعمت اللہ صاحب نے جان دی ہے۔ اور ہمیں ان لوگوں کی یاد کو تازہ رکھنا چاہیے تاکہ ہمارے تمام افراد میں قربانی کا جوش پیدا ہو۔ میری رائے ہے کہ جس قدر سلسلہ کے شہید ہوں ان کے نام ایک شہیدوں کے کتبے کتبہ پر لکھوائے جائیں اور اس کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سرہانے کی طرف لگوایا جائے تاوہ ہر اک کی دعا میں شامل ہوتے رہیں۔ اور ہر اک کی نظر ان کے ناموں پر پڑتی رہے۔ فی الحال اس کتبہ پر مولوی شہزادہ عبداللطیف صاحب اور مولوی نعمت اللہ صاحب کا نام ہو۔ اگر آئندہ کسی کو یہ مقام عالی عطا ہو تو اس کا نام بھی اس کتبہ پر لکھا جائے۔ تذکرۃ الشہداء اسی طرح ایک کتاب تیار ہو جس میں تاریخی طور پر تمام شہداء کے حالات جمع ہوتے رہیں تا آئندہ نسلیں ان کے کارناموں پر مطلع ہوتی رہیں ۔ اور ان کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کریں۔ افغانستان میں تبلیغ کا سوال اسی طرح ہمیں افغانستان میں تبلیغ اسلام کے کے سوال پر خاص غور کرنا چاہیے۔ وہاں کھلی تبلیغ کا دروازہ تو سر دست بند ہے۔ مگر ہمیں اس ملک کو ایک دن کے لئے بھی نہیں چھوڑنا چاہئیے چاہیے کہ ہمارے مخلص دوست اپنے اپنے علاقوں میں جاکر وہاں سے بااثر خاندانوں کے نوجوانوں کو ہندوستان میں لاویں پھر قادیان میں ان کو کچھ عرصہ تک رکھا جائے اور ان کو سلسلہ سے واقف کرکے چھ سات ماہ کے بعد ان کے وطن واپس کر دیا جائے۔ جو شخص ایک ماہ بھی قادیان میں رہے گا اس کا بغیر احمدی ہونے کے واپس جانا بظاہر خلاف توقع ہے۔ اور ہمیں یہی امید کرنی چاہیے کہ ان میں سے سو فیصدی ہی احمدی ہو کر جائیں گے۔ یہ لوگ جب واپس جاویں گے تو اپنے اپنے علاقہ کے لئے مبلغ کا کام دیں گے۔ اور صرف اپنے رشتہ داروں میں تبلیغ کریں گے۔ اس طرح چند سال میں ہی ایک معقول تعداد نو احمدیوں کی افغانستان میں پیدا ہو جائے گی۔ یہ ضروری ہے کہ ایسے لوگ مختلف علاقوں اور شہروں سے آئیں تا ایک ہی وقت میں سب طرف احمدیت کا اثر پھیل جائے۔ اس کے لئے ہمیں تین چار آدمی مقرر کرنے چاہئیں جو ہر وقت افغانستان میں چکر لگاتے رہیں۔ میں امید کرتا ہوں کہ اگر افغانستان کے باشندوں میں سے جو اس کام کے پہلے حقدار ہیں اس بات کے لئے آدمی نہ ملیں تو پنجابیوں کو اور خصوصاً سرحدیوں کو اس کام کے لئے تیار ہو جانا چاہیے۔