انوارالعلوم (جلد 8) — Page v
تہذیب و تمدن کا پتہ چلتا ہے۔ اور اس کے مقابلہ میں جماعت احمدیہ پر عائد ہونے والے فرائض کھل کر سامنے آجاتے ہیں۔ حضور نے اس سفر کے دوران اپنی جماعت کے نام جو خطوط ارسال فرمائے وہ روحانی لطف ودلکشی کا ایک شاندار مرقع ہیں۔ اس سفر کے دوران حضور کو افغانستان میں حضرت مولوی نعمت اللہ خان صاحب کی شہادت کی خبر ملی۔ تاریخ احمدیت کے اس اہم واقعہ کا ذکر بھی یہاں ملتا ہے۔ یہ دورہ نہ صرف اہم مذہبی اغراض کیلئے تھا بلکہ اس دورہ میں حضور نے ہندوستان کے مسلمانوں کی سیاسی راہنمائی کا فریضہ بھی سرانجام دیا۔ اور لندن میں اس بارے میں لیکچر دیا۔ حضور نے اس سفر میں اگرچہ اپنی زبان سے انگریزی میں لیکچر بھی دیا لیکن حضور کے دیگر جملہ ارشادات کو انگریزی میں بیان کرنے کی سعادت حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب کے حصہ میں آئی۔ اور آخر میں حضور نے ہندوستان واپس تشریف لاکر اہلِ قادیان کی طرف سے منعقدہ مختلف تقریبات میں اس دورہ کی غیر معمولی کامیابیوں اور اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت کا ذکر فرمایا۔ غرضیکہ یہ جلد تاریخ احمدیت کے نہائت اہم اور تاریخ ساز دور یعنی دورہ یورپ ۱۹۲۴ء کے بارے میں ایک مکمل اور مبسوط دستاویز ہے جو احباب کے مطالعہ اور از دیاد ایمان کیلئے ایک گرانقدر تحفہ ہے۔ اس جلد کی تیاری کے مختلف مراحل میں حسب سابق بہت سے بزرگان اور مربیان کرام نے اس اہم کام میں خاکسار کی عملی معاونت فرمائی ہے نے ابتدائی پروف ریڈنگ مسودات کی ترتیب اور اصلاح کے سلسلہ میں بہت محنت اور اخلاص سے خدمات سرانجام دی ہیں۔ نے پروف ریڈنگ، حوالہ جات کی تلاش، مسودہ کی نظر ثانی اعراب کی درستگی اور Re - checking کے سلسلہ میں دلی بشاشت اور لگن سے بہت وقت دے کر اس کام کو پایہ تکمیل تک پہنچایا کا بھی خاکسار دلی شکریہ ادا کرتا ہے۔ طباعت و اشاعت ہے