انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 456 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 456

۴۵۶ دوره یو رپ ورقوں میں سے خالق ِارض وسماء کی شیریں آواز کی گونج کو جو اُن لوگوں پر نازل ہوئی جو آج سے ہزاروں سال پہلے گزرے، سنتاہے تو اس کے دل میں خواہش نہیں پیدا ہوتی کہ میں بھی خدا کے قریب ہوں اور اس کی دلکش آواز کو سنوں اور اس کی محبت کو انہیں لوگو ں کی طرح حاصل کروں- یا اس کے دل میں یہ سوال پیدا نہیں ہوتا کہ جب اس زمانہ کے لوگ بھی خدا تعالیٰ ہی کی مخلوق ہیں تو کیوں ان سے خدا تعالیٰ کا سلوک ویسا ہی نہیں جیسا کہ پچھلے لوگوں سے تھا۔خدا کا فیضان ہمیشہ جاری ہے میں سمجھتا ہوں کہ اس قسم کے خواہشات کے پیدا نہ ہونے کا سبب یہ خیال ہے کہ خدا تعالیٰ کا فیضان پچھلے زمانہ پر ختم ہوگیا۔مگر اے بہنو اور بھائیو! یہ خیال اس محبت کرنے والے رب پر بدظنی ہے جس سے زیادہ محبت کرنے والی ہستی اور کوئی نہیں ہے- میں اپنے تجربہ کی بنا پر آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ مسیح موعود ؑکے تعلق کے واسطہ سے اب بھی انسان انہیں فیوض کو دیکھتا ہے جس کو پچھلے لوگ دیکھتے تھے اور خدا تعالیٰ کی رحمت کے دروازے اب بھی اس طرح کھلے ہیں جس طرح پہلے زمانہ میں کھلے تھے- جماعت احمدیہ کی کامیابی پس مایوس ہونے کی کوئی وجہ نہیں۔بے شک ہماری باتیں اس زمانہ کے لحاظ سے عجیب ہیں اور عقل نہیں مانتی کہ اس زمانہ میں یہ باتیں پھیل جائیں گی مگر خدا تعالیٰ کی طرف سے جب بھی کوئی آواز اُٹھی ہے ایسے ہی حالات میں اُٹھی ہے اور اسی طرح اس کا بلند ہونا ناممکن سمجھا گیا جب حضرت مسیح علیہ اسلام نے بنی اسرائیل کو خدا کا پیغام پہنچایایا جب محمد ﷺ نے لوگوں کو اﷲکی طرف بلایا- اس وقت کون تسلیم کرتا تھا کہ یہ لوگ کامیاب ہوجائیں گے مگر آخر وہ کامیاب ہوکر رہے کیونکہ وہ اپنی طرف سے نہیں بلکہ اس کی طرف سے بولتے تھے جو تمام دنیا کا بادشاہ ہےاسی طرح اب یہ مشکل معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ کامشن کامیاب ہو جائے گا مگر جیسا کہ خدا تعالیٰ نے پہلے سے خبر دے چھوڑی ہے ایسا ہی مقدر ہے اور ایسا ہی ہو کر رہے گا۔مبارک کون ہے؟ مگر مبارک ہیں وہ جو تعصب کو نظر انداز کر کے سنجیدگی سے اس شخص کی آواز پر کان دھرتے ہیں جو یہ کہتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے مجھے مبعوث کیا ہے- یہ دعویٰ معمولی نہیں ہے خصوصاً اس حالت میں کہ اس دعویٰ کی تصدیق کے آثار ظاہر ہوچکے ہیں اور میں امید کرتاہوں کہ سب بہنیں اور بھائی جو اس وقت جمع ہیں خواہ کسی ملک اور مذہب سے تعلق رکھتے ہیں پوری توجہ سے اس سلسلہ کی حقانیت کے متعلق غور کرنا شروع کریں گے