انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 13 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 13

انوار العلوم جلد ۸ ۱۳ بھائی فتنہ انگیزوں کا راز کیونکر فاش ہوا؟ اس قسم کی بہت سی باتیں بتائی گئیں جنہیں سن کر میں حیران تھا کہ کس طرح مزید تسلّی کی سعی استی یہ لوگ یہ باتیں کر سکتے ہیں۔ جو کار روائی بتائی گئی تھی وہ چو ادہ چونکہ ایسی خلاف اخلاق اور خلاف شریعت تھی اور انسانیت سے بعید تھی کہ کوئی بھی شریف انسان ایسا کرنا پسند نہ کرتا اس لئے میرے دل میں یہ خیال آیا کہ جو شخص خبر دے رہا ہے ممکن ہے اس کے دل میں ان سے کوئی بغض ہو ۔ لیکن چونکہ بات ایسی تفصیلی اور مسلسل تھی کہ بناوٹ ایسی نہیں ہو سکتی تھی اس لئے میں نے اس کی تحقیقات کرنی چاہی۔ لیکن اس سے قبل میں نے تسلی کے لئے اس شخص کو جس نے بات بیان کی تھی کہا کہ ان کی وہ کتاب لے آؤ چاہے دس منٹ کے لئے ہی لاؤ۔ اس پر وہ کتاب لے آیا جو بہت ضخیم تھی اور کسی کا تب سے لکھوائی ہوئی تھی جس میں حضرت مسیح موعود کی کتب کے مختلف حوالے اس طرح جمع کئے ہوئے تھے کہ معلوم ہوتا تھا ان سے لکھنے والے کی نیت کے خلاف کام لینا ہے ۔ وہ کتاب دیکھ کر مجھے یقین ہو گیا کہ یہ راوی کتاب بناوٹ سے نہیں بنا سکتا اور کاتب سے نہیں لکھوا سکتا اور نہ ہی یہ تیار کر سکتا ہے اگر اس کی بات میں بناوٹ ہوتی تو جب کتاب لانے کے لئے کہا گیا تھا کہہ دیتا وہ بھلا دیتے ہیں ۔ اسے تو بہت پوشیدہ رکھتے ہیں لیکن وہ لے آیا ۔ اس مرد مرحلہ پر پہنچ کر میں نے امور عامہ کو ہدایت دی کہ اس کی با قاعدہ تحقیقات کا حکم تحقیقات کے لئے کمیشن مقرر کرے اور اس کمیشن کے ممبر میاں بشیر احمد صاحب ، شیخ عبد الرحمن صاحب مصری، مفتی محمد صادق صاحب اور میاں محمد شریف صاحب مجسٹریٹ تھے ۔ ان کو ہدایت دی گئی کہ ان الزامات کی تحقیق کریں کہ یہ صحیح ہیں یا غلط اور جن کے خلاف لگائے گئے ہیں ان سے جواب لیں اور گواہ طلب کریں ۔ قابل تحقیقات سوالات سوال جو مقرر کئے گئے تھے یہ وہ یہ تھے:۔ (1) آپ قادیان کے بعض احمدیوں سے بنائی مذہب کے متعلق ایسے طرز پر گفتگو کرتے ہیں جس سے مترشح ہوتا ہے کہ آپ بہائی مذہب کی عظمت اور دعوٹی کی صداقت لوگوں کے دلوں پر نقش کرنا چاہتے ہیں۔ (۲) یہ کہ آپ نے بعض مجالس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دعوئی اور آپ کی صداقت کے ثبوتوں کے متعلق ایسے رنگ میں سوالات اٹھائے ہیں جن سے معلوم ہوتا