انوارالعلوم (جلد 8) — Page 449
انوار العلوم جلد ۸ ۴۴۹ دورہ یورپ حیفا میں شوقی آفندی کا مکان وغیرہ دمشق کے لئے گاڑی بدلتی ہے۔ رات دین میں حیفا ٹھرنا پڑا چونکہ دس بجے سے پہلے کوئی گاڑی نہ جاتی تھی، صبح گاڑی لے کر میں سیر کے لئے گیا۔ اور مجھے معلوم ہوا کہ بھائیوں کے لیڈر مسٹر شوقی آفندی عکہ کو چھوڑ کر حیفا میں آن ہے ہیں ۔ اور گویا کہ وہ سب حدیثیں جو عکہ کی زیارت کے متعلق سنائی جاتی تھیں ان کا زمانہ ختم ہو گیا۔ ہم ایک سڑک پر آ رہے تھے ہمیں معلوم ہوا کہ اس کے پاس چند قدم پر ہی مرزا عباس علی صاحب غرف عبد البہا کا مکان ہے۔ میں نے پہلے پڑھا ہوا تھا کہ کسی امریکن نے ایک مکان ان کو دیا ہوا ہے مگر مجھ کو معلوم نہ تھا کہ مرزا عباس علی صاحب بھی اکثر اوقات حیفا میں ٹھرا کرتے ہیں اور مکہ کا صرف نام ہی تھا۔ میرے بعض ساتھیوں نے شوق ظاہر کیا کہ وہ مکان پر جاکر ان لوگوں میں سے بعض سے ملاقات کریں۔ چنانچہ مولوی رحیم بخش صاحب اور ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب اور میاں شریف احمد صاحب مکان دیکھنے کو چلے گئے۔ شوقی آفندی تو وہاں موجود نہ تھے ۔ ان کے چھوٹے بھائی اور بعض رشتہ دار بچے موجود تھے۔ گھر پر ایک دو نوکروں سے سوا کوئی نہ تھا۔ نہ کوئی علماء کی جماعت تھی نہ انتظام تھا جس سے معلوم ہو سکے کہ انبیاء کی پیشگوئیاں پوری کرنے کے لئے وہاں کوئی سامان موجود رکھا گیا ہے کہ زائرین آئیں اور فائدہ حاصل کریں ۔ معلوم ہوا کہ شوقی آفندی اکثر حصہ اوقات کا یورپ میں خرچ کرتے ہیں اور کچھ عرصہ کے لئے آکر حیفا میں ٹھرتے ہیں، عکہ کی زیارت کا ان کو بہت کم موقع ملتا ہے۔ مرزا عباس علی صاحب غرف عبد البہا کی قبر بھی حیفا میں ہے۔ شوقی آفندی صاحب سیاہ پتھروں کا ایک نیا مکان بنوا رہے ہیں ۔ جس کی تعمیر ہونے کے بعد کہتے ہیں کہ وہ اپنے نانا کا مکان چھوڑ کر اس میں بود و باش اختیار کریں گے۔ بہائیوں کی حیفا اور عکہ میں تعداد شوقی آفندی کے والد زندہ ہیں۔ مگر وہ مکان پر ہمارے آدمیوں کو نہیں ملے ۔ کسی نوکر نے بتایا تھا کہ وہ پاس کے کمرے میں ہیں۔ میاں شریف احمد صاحب نے شوقی آفندی کے چھوٹے بھائی اور مکان کی تصویر لے لی۔ باوجود عرب میں رہنے کے ان لوگوں کی زبان زیادہ تر فارسی ہی ہے۔ شہر میں دریافت کرنے سے معلوم ہوا کہ سارے حیفاء میں کوئی بیس کے قریب بھائی ہیں اور پچیس