انوارالعلوم (جلد 8) — Page 446
انوار العلوم جلد ۸ دورہ یورپ بیت المقدس کے قابل دید مقام بیت المقدس کی جگہوں میں سے مندرجہ ذیل مقامات قابل ذکر ہیں۔ ابو الانبیاء حضرت ابراہیم ، حضرت اسحاق، حضرت یعقوب اور حضرت یوسف کی قبور اور وہ مقام جس پر حضرت عمرؓ نے نماز پڑھی اور بعد میں اسکو مسجد بنا دیا گیا۔ اور حضرت عیسی کی پیدائش کے مقامات جو اختلافی ہے اور ان کی صلیب کا مقام جو وہ بھی اختلافی ہے۔ وہ جگہ جہاں یہودی عالموں نے ان پر کفر کا فتوی لگایا وہ مقام جہاں پیلا طوس عدالت کرتا تھا وہ مقام جہاں سے کھڑے ہو کر اس نے ان کی صلیب کا حکم سنایا اور اپنی براءت کا اظہار کیا اور پھر وہ جبل زیتون جس پر چڑھ کر بزعم مسیحیاں وہ آسمان کی طرف اُڑ گئے۔ فلسطین میں یہودیوں کی نئی آبادی بیت المقدس اس وقت فلسطین کا دارالخلافہ ہے اور فلسطین جنگ عظیم کے بعد انگریزی حکومت کے ماتحت اس شرط پر کیا گیا ہے کہ وہ اس ملک کو کچھ عرصہ کے اندر خود مختارانہ حکومت کرنے کے قابل بنادیں۔ چونکہ ایام جنگ میں یہودیوں نے برطانیہ کی بہت مدد کی تھی اور مختلف طرزوں میں بہت بڑا حصہ لیا تھا۔ مسٹر یفوڈ نے جو دوران جنگ میں اہم عہدہ ہائے وزارت پر فائز رہے ہیں، وزارت خارجیہ کے زمانے میں یہودیوں سے اس بات کا اقرار کیا تھا کہ جنگ کے فتح ہونے پر وہ ان کے فلسطین میں آباد ہونے کے لئے ہر طرح کی سہولتیں بہم پہنچائیں گے اور یہودیوں کی امر میں مدد کریں گے کہ وہ فلسطین میں جو ان کا کا آبائی ملک ہے کثرت کے ساتھ آباد ہو سکیں۔ اس وعدہ کے پورا کرنے کے لئے برطانیہ نے جنگ کے خاتمہ پر سر ہربرٹ سموئیل کو جو یہودی النسل اور یہودی المذہب ہیں لیکن انگلستان کے باشندے ہیں، فلسطین کا گورنر مقرر کیا اور مسٹر بیفوڈ کا وعدہ پورا کرنے کی بھی تاکید کی۔ اس ام مسلمانوں اور مسیحیوں کو یہ بات ناگوار گزری اور ملک کی اکثر آبادی انہی دونوں قوموں کا مجموعہ ہے اسی (۸۰) فی صدی کے قریب مسلمان ہیں ، کافی صدی کے قریب عیسائی اور تین فی صدی کے قریب یہودی ہوں گے۔ مگر باوجود مسلمانوں اور عیسائیوں کی مخالفت کے یہودیوں کو فلسطین میں بسانے کے لئے حکومت برطانیہ نے پوری سعی کی اور اب یہودیوں کی آبادی ۱۰ فیصدی کے قریب ہو گئی ہے۔ چار ہزار کے قریب آکر یہودی نئے لیے ہیں۔ یہودی چونکہ بڑے بڑے مالدار ہیں انہوں نے کروڑوں روپیہ چندہ کر کے فلسطین میں جائدادیں خرید لی ہیں اور