انوارالعلوم (جلد 8) — Page 440
۴۴۰ دوره یو رپ کے ایڈیٹروں کی آمد کی خبر دے دی تھی مگر سوائے دوتین اخبارات کے کسی نے اس خبر کو نہ چھاپا جس کی وجہ وہ مخالفت ہے جو مصری علماء کے دلوں میں ہماری نسبت پیدا ہورہی ہے۔وہ لوگ خیال کرتے ہیں کہ سب سے بڑھ کر اسلامی ترقی کا مرکز بننے کا ہماراحق ہے۔ازہر کے سوا ان کو کچھ نظر نہیں آتا- اور واقعہ میں علوم ظاہری میں سب دنیا میں اب ازہر ہی لے دے کے مسلمانوں کے پاس ہے۔اور اسی وجہ سے شام، فلسطین ،عراق، ایران اور عرب اسی کی طرف نگاه رکھتیں ہیں۔اگر کوئی مامور خدا تعالی کی طرف سے آیا ہے تو ازہر اپنی عزت کا خاتمہ سمجھتا ہے۔ازہریوں کے ذہن میں یہ بات نہیں آسکتی کہ نبی ذلیل کرنے نہیں بلکہ لوگوں کو معزّز بنانے کے لئے آتے ہیں مگر یہ عقل ان کو کون دے۔اور جب تک یہ عقل ان میں پیدا نہ ہو ان کی اصلاح کس طرح ہوسکتی ہے۔اس وقت تک کہ یہ بات ان کی سمجھ میں آوے ان کی طرف سے مخالفت ضروری ہے۔یورپین تہذیب کی تباہی اور مصر ہم قاہرہ میں صرف دو دن ٹھہرے اور قاہرہ بمبئی سے بڑا شہر ہے۔مغربی تعریف جو تہذیب کی ہے اس کے لحاظ سے ہندوستانی شہروں سے تہذیب میں بدرجہا بڑھ کر ہے۔ساری دنیا کے آدمی آپس میں ملتے ہیں۔یورپ، امریکہ، افریقہ ،ایشیاء اس میں اس طرح جمع ہیں جس طرح ناف میں پیٹ کی چاروں طرفیں جمع ہو جاتی ہیں۔اور اس کی وجہ سے وہاں کے لوگوں کے اخلاق پر مغربی تعلیم کا بہت بُرا اثر پڑا ہے۔میرے نزدیک مصر مسلمانوں کا بچہ ہے جے یورپ نے اپنے گھر میں پالا ہے تا کہ اس کے ذریعہ سے بلاد اسلامیہ کے اخلاق کو خراب کرے۔مگر میرادل کہتا ہے اور جب سے میں نے قرآن کریم کو سمجھا ہے میں برابر اس کی بعض سورتوں سے استدلال کرتا ہوں اور اپنے شاگردوں کو کہتا چلا آیا ہوں کہ یورپین فوقیت کی تباہی مصر سے وابستہ ہے۔اور اب میں اسی بناء پر کہتا ہوں کہ یورپ نے اس امر میں ایسا ہی دھوکا کھایا ہے۔جیسا کہ فرعون نے۔مصرجب خداتعالی کی تربیت میں آجائے گا تو وہ اسی طرح یورپین تہذیب کے مخرب اخلاق حصوں کو توڑنے میں کامیاب ہو گا جس طرح حضرت موسیٰؑ فرعون کی تباہی میں۔بے شک اس وقت یہ عجیب بات معلوم ہوتی ہے مگر جو زندہ رہیں گے وہ دیکھیں گے۔قاہرہ میں کام کی تقسیم میں نے قاہرہ پہنچتے ہی جو ملک مصر او ردالالخلافہ ہے اور عام طور پر لوگوں میں مصر کے نام سے مشہور ہے، اس بات کا اندازہ لگا کر کہ